عظمیٰ نیوزسروس
جموں//رُکن اسمبلی بلونت سنگھ منکوٹیہ نے وقفہ سوالات کے دوران پوچھے جانے والے سوالات کی طوالت کے حوالے سے نکتۂ اعتراض اُٹھایا۔سپیکر قانون ساز اسمبلی عبدالرحیم راتھر نے جواب میں کہا کہ ایوان کے قیمتی وقت کو بچانے کے لئے سوال کی طوالت 150 الفاظ سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔سپیکرموصوف نے قاعدہ 38 کی شق 7 کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اراکین اسمبلی کے سوالات طویل نہیں ہونے چاہئیں اور ان کی حد 150 الفاظ تک ہونی چاہیے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ بیشتر سوالات طویل ہوتے ہیں اور قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ تاہم، اُنہوں نے واضح قوانین کے باوجود اپنی خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے زیادہ تر سوالات کو منظور کیا۔سپیکرنے اراکین سے تعاون کی اپیل کی کہ وہ طویل سوالات سے گریز کریں اور خبردار کیا کہ مستقبل میں ایسے سوالات کو ایوان کا وقت بچانے کے لئے مسترد کر دیا جائے گا۔اُنہوں نے مزید تجویز پیش کی کہ قواعد کے بارے میں ماہرین کی طرف سے ایک ورکشاپ یا سمینار کا اِنعقاد کیا جائے تاکہ اراکین اسمبلی کو قواعد سے بہتر طور پر آگاہ کیا جا سکے۔