عشرت حسین بٹ
منڈی پونچھ//ضلع سماجی بہبود محکمہ پونچھ کی جانب سے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول منڈی میں نشہ مکت بھارت ابھیان اور بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ (بی بی بی پی) اسکیم کے تحت ایک جامع آگاہی پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں طلبہ، سماجی شخصیات اور مقامی نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔ پروگرام کا مقصد نوجوان نسل کو منشیات کے بڑھتے ہوئے خطرات سے آگاہ کرنا اور بچیوں کے تحفظ و تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔اس موقع پر ضلع سماجی بہبود افسر پونچھ خلیل بانڈے نے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نشہ مکت بھارت ابھیان حکومت ہند کا ایک اہم اقدام ہے جس کا مقصد معاشرے سے منشیات کے ناسور کا خاتمہ کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ منشیات نہ صرف افراد بلکہ پورے معاشرے کو تباہ کر دیتی ہیں، اس لیے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اس کے خلاف آواز بلند کریں اور بیداری مہم کا حصہ بنیں۔انہوں نے بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ اسکیم پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بچیوں کو تعلیم، تحفظ اور عزت فراہم کرنا ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہے۔ صنفی مساوات کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔پرنسپل بوائز ہائر سیکنڈری اسکول منڈی انور خان نے بطور مہمانِ اعزاز محکمہ سماجی بہبود کی اس پہل کو سراہا اور کہا کہ اس طرح کے پروگرام طلبہ کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو تاکید کی کہ وہ اس پیغام کو اپنے گھروں اور معاشرے تک پہنچائیں۔پروگرام میں بوائز اور گرلز ہائر سیکنڈری اسکول منڈی کے کل 335 طلبہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر سابق سرپنچ مبشر حسین، طارق منظور، سریندر سنگھ، فاروق احمد، سماجی کارکن عبد الاحد بھٹ، مولوی فرید ملک اور دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔سرسوتی سنگیت کلا کیندر پونچھ کے فنکاروں نے، پردیپ کھنہ کی قیادت میں، گیت، اسکیٹس اور نکڑ ناٹک پیش کیے، جن کے ذریعے منشیات کے نقصانات اور بچیوں کے حقوق سے متعلق مؤثر پیغامات دیے گئے۔لیکچرر فرزانہ انجم، عارفہ بانو اور ناہیدہ اقبال خان نے بھی خطاب کرتے ہوئے منشیات کے جسمانی و ذہنی نقصانات اور تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی، جبکہ طلبہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔پروگرام کی نظامت تحصیل سوشل ویلفیئر آفیسر منڈی محمد اعظم راتھر نے انجام دی۔ آخر میں مہمانِ خصوصی نے شرکاء میں اسناد، ٹرافیاں اور یادگاری تحائف تقسیم کیے۔پروگرام اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ معاشرے کو منشیات سے پاک بنایا جائے گا اور ہر بچی کو تعلیم، تحفظ اور برابری کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔