جنگ بندی سے لے کر علاقائی سیکورٹی کے انتظامات تک کئی اہم نکات شامل
ایجنسیز
واشنگٹن//امریکہ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کو ختم کرنے اور اس کے جوہری پروگرام پر روک لگانے کے لیے ایک جامع 15 نکاتی تجویز بھیجی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونالڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ایران معاہدے کی سمت میں آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ یہ تجویز ثالث ممالک کے ذریعہ بھیجی گئی ہے، جس میں جنگ بندی سے لے کر علاقائی سیکورٹی کے انتظامات تک کئی اہم نکات شامل ہیں۔ یہ جانکاری ’دی وال اسٹریٹ جرنل‘ نے افسران کے حوالے سے دی ہے۔ ایک افسر نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ جنگ بندی کا یہ منصوبہ پاکستان کے ثالثوں کے ذریعہ ایران کو سونپا گیا ہے۔اس منصوبہ کے تحت ایران سے اس کے 3 اہم جوہری ٹھکاونوں کو بند کرنے، ملک کے اندر یورینیم کی افزودگی مکمل طور سے روکنے اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی علاقائی پراکسی گروپوں کو ملنے والی مدد روکنے اور آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی سمندری آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر کھلا رکھنے کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔تجویز میں ایک ماہ کی جنگ بندی کا مشورہ بھی شامل ہے۔ اس کے تحت ایران سے یہ تحریری یقین دہانی مانگی گئی ہے کہ وہ مستقبل میں کبھی ایٹمی ہتھیار تیار نہیں کرے گا اور اپنے پاس موجود افزودہ ایٹمی مواد ایک مقررہ وقت کے اندر بین الاقوامی تونائی ایجنسی کو سونپ دے گا۔ اس کے علاوہ نطنز، اصفہان اور فردو جوہری مراکز کو غیر فعال کر تباہ کرنے اور بین الاقوامی معائنہ کاروں کو مکمل رسائی دینے کی بات بھی کی گئی ہے۔
آبنائے ہرمز پر ایران کا بڑا فیصلہ | غیر دشمن بحری جہازوں کو مشروط اجازت
ایجنسیز
نیویارک//نیویارک میں موجود ایرانی مشن نے بدھ کو ایک بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غیر دشمن بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے گا۔ مشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرکے بتایا کہ جو جہاز ایران کے خلاف کسی بھی طرح کی فوجی کارروائی میں شامل نہیں ہیں وہ اس راستے کا استعمال کر سکتے ہیں۔ایران نے اس کے لیے کچھ شرائط بھی رکھی ہیں۔ جس کے مطابق بحری جہازوں کو ایرانی حکام کے ساتھ ہم آہنگی اور حفاظتی ضوابط کی سختی سے تعمیل کرنی ہوگی۔ ایرانی دفاعی کونسل نے واضح کردیا ہے کہ اب اس اسٹریٹجک راستے سے گزرنے کے لیے ایرانی حکام کے ساتھ پیشگی رابطہ لازمی ہے۔ ایران کے سرکاری میڈیا ’پریس ٹی وی‘ کی رپورٹ کے مطابق ایران نے یہ قدم امریکہ اور اسرائیل کی فوجی سرگرمیوں کے پیش نظر اٹھایا ہے۔
ایران کے بھی امریکہ کے سامنے 6 شرائط
یواین آئی
واشنگٹن// ایران نے امریکا کے پندرہ نکاتی امن منصوبے کے جواب میں اپنے 6 مطالبات امریکا کے سامنے رکھ دیے ہیں۔ پاسداران انقلاب نے سب سے پہلا مطالبہ یہ کیا ہے کہ مستقبل میں دوبارہ جنگ یا جارحیت شروع نہ ہونے کی واضح اور قابل عمل بین الاقوامی ضمانت دی جائے۔دوسری شرط یہ ہے کہ خطے (مشرق وسطیٰ) میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو مکمل طور پر ختم اور بند کیا جائے۔ تیسری شرط یہ ہے کہ جارح قوتیں اپنی پوزیشنوں سے پیچھے ہٹیں اور جنگ کے دوران ایران کو ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کا پورا ہرجانہ ادا کیا جائے۔ چوتھی شرط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ صرف ایران ہی نہیں بلکہ تمام علاقائی محاذوں (لبتان، یمن اور دیگر ممالک) پر جاری جنگ اور معاندانہ سرگرمیوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔ پانچویں شرط میں آبنائے ہرمز کا کنٹرول اور ٹیکس وصولی کے حق کا مطالبہ کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعہ جہاز رانی اور سیکورٹی کے لیے ایک نیا بین الاقوامی قانونی نظام نافذ کیا جائے۔ چھٹی اور آخری شرط یہ ہے کہ ایران کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والی میڈیا سرگرمیوں کو روکا جائے۔