محمد بشارت
کوٹرنکہ//سب ڈویژن کوٹرنکہ میں محکمہ جل شکتی کی مبینہ غفلت شعاری کے باعث پانی کی فراہمی بری طرح متاثر ہو چکی ہے، جس سے مختلف پنچایتوں کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خصوصاً پنچایت کنڈی لوئر کے وارڈ نمبر 3 اور 5 میں گزشتہ دس دن سے پانی کی مکمل عدم دستیابی نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق علاقے میں پانی کے مستقل ذرائع کا فقدان ہے جس کے باعث واٹر ٹینک خالی پڑے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ متعلقہ ٹھیکیدار کی جانب سے عارضی طور پر گندے نالے کا پانی سپلائی کیا گیا تھا، تاہم حالیہ بارشوں کے بعد وہ پانی بھی خراب ہو چکا ہے، جو کسی صورت استعمال کے قابل نہیں رہا۔
اس صورتحال نے عوام کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے، خاص طور پر ماہِ رمضان کے دوران پانی کی قلت نے روزمرہ کے معمولات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔مقامی باشندوں نے محکمہ سے اپیل کی ہے کہ رمضان کے پیش نظر فوری طور پر کسی بھی ممکنہ ذریعے سے پانی کی سپلائی بحال کی جائے، چاہے وہ عارضی ہی کیوں نہ ہو، تاکہ عوام کو راحت مل سکے۔ ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ جل جیون مشن (JJM) کے تحت علاقے میں صاف اور مستقل پانی کے سورس کا بندوبست کیا جائے کیونکہ گندے پانی کی فراہمی کسی صورت قابل قبول نہیں۔عوام نے محکمہ جل شکتی کے عملے کے رویے پر بھی شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متعلقہ لائن مین نہ صرف غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتے ہیں بلکہ شکایات پر یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں کہ ان کی یہاں ڈیوٹی نہیں ہے۔ لوگوں نے ایسے ملازمین کے خلاف کارروائی یا ان کی فوری تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔مزید برآں، شہریوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد بار فون کے ذریعے متعلقہ حکام کو اس مسئلے سے آگاہ کیا، لیکن اس کے باوجود کوئی خاطر خواہ قدم نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے انتباہ دیا ہے کہ اگر پانچ دن کے اندر اندر مسئلہ حل نہ کیا گیا تو وہ ایک باضابطہ قرارداد منظور کر کے چیئرمین تحصیل لیگل سروسز کمیٹی کے سامنے شکایت درج کروائیں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری محکمہ اور متعلقہ ٹھیکیدار پر عائد ہوگی۔ادھر کوٹرنکہ بس اسٹینڈ کے گریٹر محلہ میں بھی پانی کی بندش کے باعث عوام سخت پریشان ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ محکمہ جل شکتی کے ملازمین کی عدم دستیابی اور لاپروائی کے سبب مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔علاقہ مکینوں نے اعلیٰ حکام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لے کر محکمہ کے ملازمین کو جوابدہ بنائیں اور عوام کو بنیادی سہولت یعنی صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔