جاوید اقبال
مینڈھر// گوہلد مینڈھر علاقہ کے مکینوں نے انتظامیہ کے ایک حالیہ اقدام پر شدید ناراضگی اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ چند افراد کے کہنے پر تقریباً پچاس سال پرانی عیدگاہ کو مسمار کر دیا گیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عیدالفطر سے چند روز قبل اس طرح کی کارروائی انتہائی افسوسناک اور نامناسب ہے جس سے لوگوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔علاقہ مکینوں کے مطابق گوہلد مینڈھر کی یہ عیدگاہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک وسیع علاقے کے مسلمانوں کے لیے عید کی نماز ادا کرنے کی مرکزی جگہ رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر سال عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر دور دراز دیہات سے لوگ بڑی تعداد میں یہاں جمع ہو کر نماز عید ادا کرتے تھے۔ مقامی افراد کے مطابق یہ زمین سرکاری ریکارڈ میں درج تھی اور اسی جگہ پر برسوں سے عید کی نماز ادا کرنے کی روایت قائم تھی۔
لوگوں نے حیرت اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ انتظامیہ نے کس بنیاد پر اور کن لوگوں کے کہنے پر اس عیدگاہ کو مسمار کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں شفافیت کا فقدان نظر آتا ہے اور عوام کو اس کارروائی کے بارے میں پیشگی طور پر آگاہ بھی نہیں کیا گیا۔مقامی شہریوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ماضی میں حکومت کی جانب سے اس عیدگاہ کی دیکھ بھال اور تعمیر و مرمت پر لاکھوں روپے خرچ کیے گئے تھے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ جگہ واقعی متنازعہ یا سرکاری ریکارڈ میں کسی اور مقصد کے لیے مختص تھی تو اس وقت حکومت کہاں تھی جب اس مقام پر عوامی پیسہ خرچ کیا گیا اور لوگ برسوں سے یہاں نماز ادا کرتے رہے۔علاقہ کے لوگوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے اپیل کی ہے کہ عید سے قبل عیدگاہ کو دوبارہ درست کیا جائے تاکہ لوگ حسبِ سابق اسی مقام پر عید کی نماز ادا کر سکیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پورے معاملے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کسی نے جان بوجھ کر یہ اقدام کروایا ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔دوسری جانب جب اس سلسلے میں تحصیلدار مینڈھر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ جگہ سرکاری زمین ہے اور ابھی تک اسے کسی ادارے یا کمیونٹی کے نام باقاعدہ طور پر منتقل نہیں کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری زمین پر بغیر اجازت تعمیراتی سرگرمیاں جاری تھیں جس کے باعث انتظامیہ کو کارروائی کرنی پڑی تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مسئلے کا حل بات چیت اور باہمی مشاورت کے ذریعے نکالا جا سکتا تھا اور عید سے قبل اس طرح کی کارروائی نے علاقے میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ضلعی انتظامیہ اس حساس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لے کر عوام کے جذبات کا احترام کرے گی اور مسئلے کا مناسب حل تلاش کرے گی۔