تبصرہ
بشیر اؔطہر
وادیٔ کشمیر کی سرزمین ہمیشہ سے کہانیوں کی سرزمین رہی ہے۔ یہاں کا انسان کبھی بے احساس نہیں رہا۔ بلکہ ہر دور میں کچھ ایسے قلمکار پیدا ہوتے ہیں جو اس اجتماعی احساس کو لفظ دیتے ہیں اور انہی ناموں میں آج ایک معتبر نام نوجوان قلمکارسبزار احمد بٹ کا ہے۔سبزار احمد بٹ کے افسانوی مجموعہ ’’گھٹن‘‘ میں وہ افسانے شامل ہیں جو وادی کے مؤقر روزناموں میں اکثر شائع ہوتے رہے ہیں اور آپ اُن افسانہ نگاروں میں شامل ہیں جو شہرت کے شور سے زیادہ تخلیق کی خاموشی پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ لکھتے نہیں، جیتے ہیں اور جب لکھتے ہیں تو زندگی صفحے پر منتقل ہو جاتی ہے۔ ان کے افسانے وقتی تفریح نہیں بلکہ فکری تجربہ ہوتے ہیں۔ قاری انہیں پڑھ کر فارغ نہیں ہوتا، بلکہ دیر تک ان کے ساتھ چلتا رہتا ہے۔افسانوی مجموعہ’’گھٹن‘‘ اپنے عنوان ہی سے ایک اجتماعی کیفیت کو گرفت میں لے لیتا ہے۔ یہ گھٹن کسی ایک فرد کی نہیں، پورے عہد کی گھٹن ہے۔ وہ گھٹن جو سہولتوں کے ہجوم میں پل رہی ہے، وہ گھٹن جو بلند عمارتوں کے سائے میں سانس لے رہی ہے، وہ گھٹن جو اسکرینوں کی روشنی میں آنکھیں کھولتی اور رشتوں کی تاریکی میں گم ہو جاتی ہے۔
خود عنوانی افسانہ’’گھٹن‘‘ ہمیں اس سماجی تبدیلی کا آئینہ دکھاتا ہے جسے ہم ترقی کا نام دیتے آئے ہیں۔شہر کی کھلی فضائیں، بے تکلف رشتے، اور بے ساختہ محبت اب آہستہ آہستہ شہروں کی بند دیواروں میں دفن ہوتے جا رہے ہیں۔ صحن چھوٹے ہو گئے ہیں، دل بھی چھوٹے ہو گئے ہیں۔ ملاقاتیں رسمی ہیں، تعزیت پیغامات میں بدل چکی ہے اور انسان ایک دوسرے کے قریب رہ کر بھی ایک دوسرے سے دور ہے۔یہ افسانہ پڑھتے ہوئے قاری کو یوں لگتا ہے جیسے وہ اپنی ہی زندگی کا خلاصہ پڑھ رہا ہو۔
سبزار احمد بٹ کی تخلیقی قوت کا کمال یہ ہے کہ وہ بڑے بیانیے کو چھوٹے منظر میں سمو دیتے ہیں۔ وہ خطبہ نہیں دیتے، منظر دکھاتے ہیں اور منظر خود بولنے لگتا ہے۔اسی مجموعے کا افسانہ’’چسکا‘‘ جدید انسان کی ایک اور کمزوری کا نوحہ ہے۔ موبائل فون ہماری جیب میں ہے مگر اس نے ہمیں اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ ہم اسکرین کو زیادہ دیکھتے ہیں، ایک دوسرے کو کم۔ والدین ہمارے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں مگر ہماری توجہ کہیں اور ہوتی ہے۔ یہ افسانہ محض تنقید نہیں، ایک دردناک اعتراف ہے۔
یہاں سبزار بٹ ایک حساس مبصر کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ وہ سماج کو ملامت نہیں کرتے، اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی ایک بڑے افسانہ نگار کی پہچان ہے۔
افسانہ ’’کبوتر باز‘‘ اس مجموعے کا علامتی شاہکار کہا جا سکتا ہے۔ بظاہر کبوتروں کی کہانی، مگر دراصل انسان کی فطرت کی گہری پرتوں کی کھوج۔ پنجرہ صرف پرندوں کا نہیں، طاقت کا بھی ہے۔ ہوس، ملکیت، خوف اور مزاحمت یہ سب اس افسانے میں ایک علامتی رقص کی صورت سامنے آتے ہیں۔ غار کی خاموشی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ظلم کو سہنا بھی ایک طرح کا جرم ہے، اور اتحاد کبھی کبھی معجزہ بن جاتا ہے۔جیسا کہ بعد میں دیکھا گیا ہے کہ کس طرح اتحاد کی وجہ سے انہیں بازوں سے چھٹکارا ملا۔یہ وہ مقام ہے جہاں سبزار احمد بٹ صرف کہانی کار نہیں رہتے وہ مفکر بن جاتے ہیں۔
افسانہ’’شارٹ کٹ‘‘ اخلاقی کشمکش کا آئینہ ہے۔ نجم الدین اور دلاور دو کردار نہیں، دو فلسفے ہیں۔ ایک طرف صبر، دیانت اور سادگی ہے؛ دوسری طرف جلدی کامیابی، فریب اور وقتی چمک۔ انجام ہمیں سکھاتا ہے کہ قسمت ہمیشہ شور کرنے والوں کے ساتھ نہیں ہوتی، اکثر وہ خاموش محنت کرنے والوں کے حق میں فیصلہ دیتی ہے۔یہ افسانہ ہمارے معاشرے کے اس خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے جہاں ہم منزل چاہتے ہیں مگر سفر نہیں۔اور آخر میں کس طرح دلاور اپنی ساری پونجی کو نیلام کرتا ہے اور اس کے پاس ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں رہتی۔اسی طرح’’او ٹی پی‘‘ جدید ٹیکنالوجی کے دور کی ایک المیہ داستان ہے۔ اعتماد اب پاس ورڈ کی طرح ہو گیا ہے ایک بار ٹوٹ جائے تو سب کچھ بکھر جاتا ہے۔ مہرین کا کردار کسی ایک عورت کی نمائندگی نہیں کرتا، بلکہ اس جذباتی خلا کی علامت ہے جو تیز رفتار دنیا میں پیدا ہو رہا ہے۔ سبزار بٹ اس حساس موضوع کو غیر ضروری سنسنی کے بغیر پیش کرتے ہیں۔ وہ فیصلہ نہیں سناتے، سوال چھوڑتے ہیں اور یہی ادب کا اصل کام ہے۔
سبزار احمد بٹ کے افسانوں کا سب سے بڑا وصف ان کی سچائی ہے۔ ان کے ہاں مصنوعی چمک نہیں، خالص انسانی درد ہے۔ وہ زندگی کو خوبصورت بنانے کے لیے نہیں لکھتے، بلکہ اسے سچائی کے ساتھ دکھانے کے لیے لکھتے ہیں۔ اور سچائی ہمیشہ خوبصورت نہیں ہوتی مگر ضروری ہوتی ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک اکسیر گر ہیں، جو عام زندگی کو ادب کے سونے میں بدلنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ ان کے کردار کتابی نہیں لگتے، ہمارے آس پاس چلتے پھرتے انسان معلوم ہوتے ہیں۔اس افسانوی مجموعے ’’گھٹن‘‘ میں شامل تمام افسانوں پر مفصل گفتگو کی جائے تو یقیناً ایک مستقل ضخیم کتاب درکار ہوگی، کیوں کہ سبزار احمد بٹ نے ہر افسانے میں فن اور فکر کی ایسی تہیں سمو دی ہیں جو قاری کو بار بار رک کر سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔ یہ کہانیاں محض مطالعہ کا لطف نہیں دیتیں بلکہ خوابِ خرگوش میں ڈوبی ہوئی حسّیات کو جھنجھوڑ کر بیدار کرتی ہیں اور انسان کو اپنے باطن کے کٹہرے میں لا کھڑا کرتی ہیں، جہاں خود احتسابی ایک ناگزیر تجربہ بن جاتی ہے۔’’گھٹن‘‘ محض ایک کتاب نہیں، ہمارے عہد کی نفسیاتی دستاویز ہے۔ یہ ہمیں جھنجھوڑتی ہے، آئینہ دکھاتی ہے، اور خاموشی سے پوچھتی ہےکیا ہم ترقی کر رہے ہیں یا صرف دور ہوتے جا رہے ہیں؟
سبزار احمد بٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ افسانہ آج بھی زندہ ہے، بشرطیکہ لکھنے والا زندگی سے سچا ہو۔ یہ مجموعہ اردو افسانے میں ایک اہم اضافہ ہے اور مجھے یقین ہے کہ آنے والے برسوں میں یہ کتاب ایک معتبر حوالہ بن کر یاد رکھی جائے گی۔آخر میں صرف اتنا کہوں گاادب وہ چراغ ہے جو اندھیرے ختم نہیں کرتامگر ہمیں اندھیرے میں دیکھنا سکھا دیتا ہےاور’’گھٹن‘‘ ایسا ہی ایک چراغ ہے۔
(رابطہ۔7006259067 )
[email protected]
������������������