ایجنسیز
کابل// افغانستان کی طالبان حکومت نے جمعہ کی صبح پاکستان کی فوج پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے رات گئے کابل اور جنوبی صوبہ قندھار میں فضائی حملوں کے دوران رہائشی گھروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم چار شہری جاں بحق ہو گئے۔ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان جاری جھڑپیں اب تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہیں۔حکومتی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستانی طیاروں نے قندھار ایئرپورٹ کے قریب نجی فضائی کمپنی کام ایئر کے ایندھن کے ڈپو کو بھی نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق یہ کمپنی شہری فضائی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے طیاروں کو بھی ایندھن فراہم کرتی ہے۔دوسری جانب پاکستان کی فوج اور حکومت کی جانب سے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔پاکستان اور افغانستان فروری کے اواخر سے ایک دوسرے کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ کابل کا کہنا ہے کہ اس نے سرحدی علاقوں میں پاکستانی حملوں کے جواب میں پاکستانی چوکیوں پر حملے کیے تھے۔ پاکستان کی فوج کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائیاں سرحدی علاقوں میں موجود پاکستانی طالبان اور ان کے معاون نیٹ ورکس کے خلاف ہیں، جبکہ افغانستان نے سرحد کی اس حیثیت کو باضابطہ طور پر کبھی تسلیم نہیں کیا۔دونوں ممالک ایک دوسرے کو بھاری جانی نقصان پہنچانے کے دعوے کر رہے ہیں اور حالیہ برسوں میں یہ جھڑپیں سب سے مہلک قرار دی جا رہی ہیں۔ اسلام آباد نے اس صورتحال کو افغانستان کے ساتھ ‘‘کھلی جنگ’’ سے تعبیر کیا ہے۔ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے پیغامات میں دعویٰ کیا کہ پاکستانی فضائی حملوں میں افغانستان کے صوبوں پکتیا اور پکتیکا سمیت مختلف علاقوں میں متعدد شہری مقامات اور غیر آباد جگہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ حملے ‘‘بلا جواب نہیں رہیں گے۔’’کابل پولیس کے ترجمان خالد زدران کے مطابق شہر میں کم از کم چار شہری، جن میں بچے بھی شامل ہیں، جاں بحق جبکہ 15 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم افغانستان بھر میں مجموعی ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد واضح نہیں ہو سکی۔یہ تازہ فضائی حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب چین کے خصوصی ایلچی یوے شیاویونگ اسلام آباد پہنچے اور اپنے پاکستانی ہم منصب محمد صادق سے ملاقات کی۔ اس سے قبل وہ کابل میں افغان حکام سے بھی مل چکے تھے۔ محمد صادق نے ایکس پر لکھا کہ ملاقات کے دوران پاکستان اور چین کو درپیش دہشت گرد تنظیموں جیسے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اورایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) کے خطرات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔بین الاقوامی برادری کی جانب سے تحمل اور کشیدگی کم کرنے کی بارہا اپیلوں کے باوجود صورتحال میں بہتری نہیں آئی۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ سرحدی علاقوں اور افغانستان کے اندر اس کی کارروائیاں صرف خوارج کے خلاف ہیں۔