محتشم احتشام
پونچھ // سرحدی ضلع پونچھ کی سرحدی پنچایت سلوتری میں پینے کے پانی کی شدید قلت نے عوام کو سخت مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ مقامی باشندوں نے پانی کی مسلسل قلت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے متعلقہ محکمہ کے خلاف شدید برہمی کا اظہار کیا اور انتظامیہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ کئی دنوں سے علاقے میں پانی کی فراہمی بری طرح متاثر ہے جس کے باعث شہریوں کو پینے کے صاف پانی کے حصول کے لیے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ احتجاج کرنے والے شہریوں کا کہنا تھا کہ ماہِ مبارک رمضان کے مقدس مہینے میں پانی کی قلت نے ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
روزہ دار افراد سحری اور افطاری کے اوقات میں پانی کی عدم دستیابی کے باعث شدید مشکلات برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔مظاہرین نے بتایا کہ علاقے میں پانی کی سپلائی اکثر بند رہتی ہے اور کئی کئی دن تک نلکوں میں پانی نہیں آتا۔ لوگوں کو پانی حاصل کرنے کے لیے دور دراز علاقوں کا رخ کرنا پڑتا ہے یا نجی ذرائع سے مہنگے داموں پانی خریدنا پڑ رہا ہے۔ مقامی خواتین اور بزرگوں کو بھی پانی لانے کے لیے خاصی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔احتجاج کرنے والے شہریوں نے متعلقہ محکمہ پر لاپرواہی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بارہا شکایات درج کروانے کے باوجود مسئلے کے حل کے لیے کوئی سنجیدہ اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی سہولتوں کی فراہمی حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے لیکن اس اہم مسئلے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔مظاہرین نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے اپیل کی کہ وہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیں اور متعلقہ محکمہ کو ہدایت جاری کریں تاکہ علاقے میں پانی کی باقاعدہ فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جلد اس مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو عوام کو مزید سخت احتجاج کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کی عدم دستیابی سے روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ عوام نے امید ظاہر کی کہ ضلعی انتظامیہ اس معاملے میں فوری مداخلت کرے گی اور سلوتری پنچایت کے لوگوں کو پانی کی اس شدید قلت سے نجات دلانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں گے۔