حسین محتشم +سمت بھارگو +جاوید اقبال +رمیش کیسر
راجوری/پونچھ//ماہِ مقدس رمضان المبارک کے آخری جمعہ، جمعتہ الوداع، کو راجوری اور پونچھ کے مختلف علاقوں میں مذہبی جوش و خروش اور عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر دونوں سرحدی اضلاع کی مساجد، امام بارگاہوں اور عیدگاہوں میں ہزاروں فرزندانِ اسلام نے نمازِ جمعہ ادا کی اور اللہ تعالیٰ کے حضور خصوصی دعائیں مانگیں۔جمعتہ الوداع کے موقع پر صبح سویرے ہی نمازیوں کی بڑی تعداد مساجد کا رخ کرنے لگی۔ شہر راجوری اور پونچھ کے علاوہ مینڈھر، سرنکوٹ، نوشہرہ اور دیگر قصبوں و دیہات کی مساجد میں روحانیت سے بھرپور مناظر دیکھنے کو ملے جہاں نمازیوں نے نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ عبادات انجام دیں۔ مساجد میں نمازیوں کی تعداد معمول سے کہیں زیادہ دیکھی گئی اور کئی مقامات پر مساجد کے صحن اور اطراف میں بھی نمازیوں کی قطاریں قائم رہیں۔پونچھ میں مرکزی عیدگاہ میں سب سے بڑا اجتماع منعقد ہوا جہاں ہزاروں افراد نے باجماعت نمازِ جمعہ ادا کی۔
اس روحانی اجتماع کی قیادت معروف عالمِ دین مفتی فاروق احمد مصباحی نے کی۔ نماز کے بعد انہوں نے اپنے خطاب میں رمضان المبارک کی فضیلت، تقویٰ اور پرہیزگاری کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے اور اس کے آخری عشرے میں عبادات، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور دعا و استغفار میں اضافہ کرنا چاہیے۔انہوں نے شبِ قدر کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے اور مؤمنین کو چاہیے کہ وہ اس مبارک رات کو عبادت اور دعا میں گزار کر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کریں۔ اس موقع پر فلسطین سمیت عالمِ اسلام کے مسائل کے حل، ملک میں امن و امان اور انسانیت کی بھلائی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔اسی طرح سب ڈویژن مینڈھر کی مرکزی جامع مسجد میں بھی جمعتہ الوداع کے موقع پر ہزاروں فرزندانِ اسلام نے نماز ادا کی۔ امام و خطیب مرکزی جامع مسجد مولانا محمد سلطان نقشبندی نے اپنے خطاب میں رمضان المبارک کی برکتوں اور فضیلت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہینہ صبر، تقویٰ، بھائی چارے اور عبادت کا مہینہ ہے اور مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس بابرکت مہینے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کریں۔انہوں نے کہا کہ رمضان ہمیں صبر، برداشت اور انسانیت کی خدمت کا درس دیتا ہے۔ اگر مسلمان ان تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں شامل کریں تو معاشرے میں امن، محبت اور بھائی چارہ فروغ پا سکتا ہے۔ انہوں نے ملک و قوم کی سلامتی، خوشحالی اور امتِ مسلمہ کو درپیش مسائل کے حل کے لیے خصوصی دعا بھی کی۔راجوری ضلع کے مختلف علاقوں، بالخصوص نوشہرہ میں بھی جمعتہ الوداع کے موقع پر مساجد میں بڑے اجتماعات دیکھنے کو ملے۔ شاہی مغلیہ مسجد نوشہرہ میں امام و خطیب مولانا محمد ذاکر کی صدارت میں نمازِ جمعہ ادا کی گئی جہاں نمازیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اپنے خطاب میں انہوں نے رمضان المبارک کے پیغام پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ مہینہ انسان کو صبر، برداشت، ہمدردی اور ایثار کا درس دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ رمضان المبارک کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی زندگیوں میں نیکی، دیانت داری اور انسانیت کی خدمت کو اپنائیں۔ انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ آپسی اختلافات کو ختم کرکے اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کریں اور معاشرے میں بھائی چارہ اور محبت کو فروغ دیں۔جمعتہ الوداع کے اجتماعات کے دوران مختلف مساجد میں علمائے کرام اور خطباء نے اپنے خطبات میں رمضان المبارک کی اہمیت اور اس کے روحانی پیغام پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک نہ صرف عبادت اور تقویٰ کا مہینہ ہے بلکہ یہ انسان کو اپنے کردار کو سنوارنے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کی بھی تعلیم دیتا ہے۔علمائے کرام نے لوگوں کو تلقین کی کہ وہ ضرورت مندوں اور غریبوں کی مدد کریں اور معاشرے میں محبت، رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ دور میں امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ اتحاد اور باہمی تعاون کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔جمعتہ الوداع کے موقع پر مساجد اور عیدگاہوں میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ اور مقامی رضاکاروں کی جانب سے مناسب انتظامات کیے گئے تھے تاکہ نمازیوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ لوگوں نے نماز کی ادائیگی کے بعد ایک دوسرے کو رمضان المبارک کے آخری جمعہ کی مبارکباد بھی دی۔یوں رمضان المبارک کے آخری جمعہ کے موقع پر راجوری اور پونچھ کے مختلف علاقوں میں عبادت، روحانیت اور اخوت کا ایک حسین منظر دیکھنے کو ملا، جہاں ہزاروں افراد نے اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو کر اپنی مغفرت اور دنیا و آخرت کی بھلائی کیلئے دعائیں مانگیں۔
انجمن جعفریہ کے زیر اہتمام منعقدہ یومِ قدس ریلی میںسینکڑوں کی شرکت

محتشم احتشام
پونچھ// ماہِ مبارک رمضان کے آخری جمعہ کے موقع پر عالمی سطح پر منائے جانے والے یومِ قدس کی مناسبت سے ضلع پونچھ میں انجمن جعفریہ کے زیر اہتمام ایک پْرعزم اور پْرامن ریلی نکالی گئی جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کر کے مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ ریلی میں مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد، نوجوانوں اور بزرگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور بیت المقدس کی آزادی کے حق میں آواز بلند کی۔ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر فلسطینی عوام کے حق میں نعرے اور پیغامات درج تھے۔ اس موقع پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی گئی جبکہ ایران کے شہداء کے حق میں بھی فلک شگاف نعرے بلند کیے گئے۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بیت المقدس کی آزادی کے لیے عالمی سطح پر آواز بلند کرنا ہر مسلمان کی دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ریلی کے اختتام پر منعقدہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول اور ایک مقدس اسلامی مقام ہے جس پر غاصبانہ قبضہ نہ صرف عالمی قوانین بلکہ انسانی اقدار کے بھی خلاف ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے بیت المقدس کو ناجائز قبضے سے آزاد کرایا جائے۔مقررین نے مزید کہا کہ یومِ قدس صرف ایک دن کی علامتی یاد نہیں بلکہ مظلوموں کی حمایت اور ظلم کے خلاف جدوجہد کے عزم کی تجدید کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے مسلمان اور آزادی پسند اقوام فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی جدوجہدِ آزادی کی حمایت جاری رکھیں گے۔ریلی کے شرکاء نے اس موقع پر فلسطین کے مظلوم عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ بیت المقدس جلد از جلد آزادی کی صبح دیکھے اور خطے میں امن و انصاف قائم ہو۔ریلی کی قیادت مرکزی جامع مسجد حضرت علی علیہ السلام پونچھ کے اماموں خطیب مولانا امان حیدر رضوی ہلوری کر رہے تھے جبکہ اس موقع پر دیگر علماء کرام بھی بڑی تعداد میں موجود رہے۔پارک میں جلسہ منعقد کیا گیا جہاں پر علمائے کرام اور دیگر مقررینہ خطاب کرتے ہوئے فلسطینی عوام سے یکجہتی کا اعلان کیا اور بیت المقدس کو ازاد کرنے کا مطالبہ کیا۔
یومِ القدس کے موقع پر سرنکوٹ میں پْرامن ریلی
شرکا ء نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا
شرکا ء نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا

محتشم احتشام
نکوٹ//عالمی یومِ القدس کے موقع پر امام خمینی کے تاریخی اعلان کی روشنی میں انجمن جعفریہ سرنکوٹ مینڈھرکے زیر اہتمام ایک پْرامن اور باوقار ریلی نکالی گئی۔ ریلی کا آغاز امام بارگاہ سرنکوٹ سے ہوا جو شہر کے مختلف راستوں سے گزرتی ہوئی بس اسٹینڈ سرنکوٹ پر اختتام پذیر ہوئی۔ اس ریلی کا مقصد فلسطین اور ایران کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور غزہ میں جاری مظالم کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔ریلی میں سرنکوٹ اور گرد و نواح کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور اسرائیل و امریکہ کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے حق میں اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ مظاہرین نے غزہ میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں اور مظالم کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ریلی کے اختتام پر بس اسٹینڈ سرنکوٹ میں ایک جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا جس سے متعدد علمائے کرام اور مقررین نے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے خطابات میں یومِ القدس کی تاریخی اور عالمی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن دنیا بھر کے مظلوموں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ظالم قوتوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کی علامت ہے۔علمائے کرام نے اپنے خطابات میں کہا کہ امام خمینی کی بصیرت افروز قیادت نے امت مسلمہ کو فلسطین کے مسئلے پر متحد ہونے کا پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین اور ایران کے مظلوم مسلمان تنہا نہیں ہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمان ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کشمیر کے عوام ہمیشہ مظلوم اقوام کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور آئندہ بھی ہر سطح پر ان کی حمایت جاری رکھیں گے۔مقررین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین میں جاری مظالم کو روکنے کیلئے مؤثر اقدامات کرے اور خطے میں پائیدار امن و انصاف کے قیام کو یقینی بنائے۔ جلسے کے اختتام پر فلسطین کے مظلوم عوام کی کامیابی اور عالم اسلام کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
منڈی میں عالمی یوم القدس پر احتجاجی ریلی نکالی گئی

عشرت حسین بٹ
منڈی//دنیا بھر کی طرح جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کی تحصیل صدر مقام منڈی میں بھی عالمی یوم القدس نہایت ہی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ اس دوران انجمن تنظیم المومنین منڈی کی جانب بعد نماز جمعہ مسجد المصطفے منڈی سے امامیہ پارک منڈی تک ایک پر امن ریلیز کا انعقاد کیا گیا جس دوران مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس کی آزادی کی حمایت اور اسرائیل و صیہونیت کے خلاف احتجاج کیا گیا بتا دیں کہ عالمی یوم القدس ہر سال ماہ رمضان کے آخری جمعہ کو منایا جانے والا ایک بین الاقوامی دن ہے، جس کا آغاز 1979 میں ایران کے اس وقت کے رہبر امام خمینی نے کیا۔ اس کا مقصد فلسطینی عوام سے یکجہتی، بیت المقدس (قبلہ اول) کی آزادی کی حمایت اور اسرائیل و صیہونیت کے خلاف احتجاج کرنا ہے اس موقہ پر مقررین نے کہایہ دن صرف ارض مقدس اور اسکے باسیوں سے اظہار یکجہتی کا دن نہیں ہے بلکہ یہ دن ہے حمایت، اخوت و احساس کا ہے انہوں نے کہا کہ عرصہ دراز سے مسلمانوں کے قبلہ اول پر اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ ہے جس کو بہت جلد آزاد کروایا جائے گا اس موقہ پر پولیس کے جانب سے سخت حفاظتی انتظامات بھی کیے گئے تھے ریلی کے دوران امریکہ اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرہ بازی کی گئی اور اس موقہ پر نیتن ہاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ کے پتلے بھی نظر آتش کیے گئے ریلی کے اختتام پر تنظیم المومنین کے صدر نے تمام شرکا اور ضلع اور پولیس انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کیا۔