عظمیٰ نیوزسروس
جموں// جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے پیر کے روز جموں میں واقع ’جے کے پی سی سی‘ کے ہیڈ آفس کا اچانک دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے ملازمین کی حاضری اور مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا، جہاں محکمے کی غیر تسلی بخش حالت دیکھ کر انہوں نے شدید ناراضگی اور گہری تشویش کا اظہار کیا۔نائب وزیر اعلیٰ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جے کے پی سی سی انتہائی مایوس کن حالت میں پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق پورا محکمہ بے جان نظر آ رہا ہے اور ملازمین ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں، جبکہ عملی کام نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمے میں ضرورت سے کہیں زیادہ ملازمین اور ڈیلی ویجر تعینات ہیں، لیکن اس کے باوجود نتیجہ صفر کے برابر ہے، جو اس ادارے کی بدانتظامی کی واضح مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ایک اہم تعمیراتی کارپوریشن اس حد تک بے عملی کا شکار ہو چکا ہے۔ نہ کام ہے، نہ نظم و ضبط، اور نہ ہی کوئی واضح منصوبہ بندی۔ نائب وزیر اعلیٰ کے مطابق کئی ملازمین عرصے سے تنخواہوں سے بھی محروم ہیں، جس سے انتظامی خلل اور عدم فعالیت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ جلد ہی جے کے پی سی سی کی کارکردگی کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا جائے گا، جس میں اس ادارے کے مستقبل کے بارے میں سخت فیصلے لیے جائیں گے۔ حکومت نے اس سلسلے میں ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دی ہے جو محکمے کی موجودہ صورتحال کا مکمل جائزہ لے کر اپنی رائے پیش کرے گی۔نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت اس کارپوریشن کے حوالے سے جلد کوئی بڑا قدم اٹھائے گی۔ ’یا تو جے کے پی سی سی کو ازسرِنو فعال کیا جائے گا، یا پھر اس کے وجود کے حوالے سے سخت اور حتمی فیصلہ لینا ناگزیر ہوگا۔‘انہوں نے واضح کیا کہ عوامی مفاد اور تعمیراتی منصوبوں کی شفافیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کسی بھی قسم کی بدانتظامی برداشت نہیں کرے گی۔