یواین آئی
تہران// پاسداران انقلاب نے کلسٹر بموں سے لیس خیبر شکن میزائلوں سے تل ابیب پر حملہ کردیا۔روسی میڈیا کے مطابق ایران نے اسرائیل پر ایک ساتھ درجنوں ڈرونز اور میزائلوں سے حملہ کیا ہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ان حملوں میں کتنا جانی یا مالی نقصان ہوا ہے۔روسی میڈیا کے مطابق تل ابیب کی فضائی صورت حال براہ راست دکھانے والے کیمرے کو عین اس وقت نیچے کرکے سڑک کی جانب کردیا گیا تاکہ فضاؤں میں ایرانی میزائل داخل ہوتے نہ دیکھے جاسکے۔ حملے کیوقت تل ابیب میں سائرن بھی نہیں بجائے گئے۔ادھر ایرانی ڈرونز نے خلیج عمان میں امریکی طیارہ بردارجہاز ابراہام لنکن پر بھی حملہ کردیا۔ روسی میڈیا کے مطابق ایرانی حملے کے بعد امریکی طیارہ بردار جہاز خلیج سے دور چلا گیا۔بحرین کے دارالحکومت منامہ کے2 ہوٹل اوررہائشی عمارت بھی ڈرون کا نشانہ بنے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس دوران مغربی ایشیا کے صحراؤں میں اسرائیل اور ایران کے درمیان مہاکاوی جنگ اس مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں ہر منٹ ہلاکتوں کے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں۔ رپورٹس سامنے آ رہی ہیں کہ دنیا کے جدید ترین آئرن ڈوم میزائل ختم ہو چکے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل کے پاس صرف 5 سے 6 دن کا گولہ بارود بچا ہے۔مغربی ایشیا میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں روزانہ بڑی تعداد میں جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ حالیہ رپورٹس اور عسکری ماہرین کے مطابق اسرائیل روزانہ اوسطاً 50 سے 150 حملے (میزائل اور ڈرون) ایران کے حمایت یافتہ اہداف کے خلاف اور براہ راست ایران کی سرحدوں کی طرف کر رہا ہے۔