محمد بشارت
کوٹرنکہ // ضلع راجوری کے بلاک خواص کی پنچایت حلقہ گدیوک میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کے باعث مقامی لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خصوصاً پنچایت گدیوک کے وارڈ نمبر 4 میں گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے پانی کی سپلائی متاثر ہونے کے باعث مقامی آبادی کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔مقامی باشندگان گلزار حسین، صابر حسین، منشی خان اور محمد اشرف نے بتایا کہ گدیوک پنچایت گھر کے قریب ایک نیا پانی کا ٹینک تعمیر کیا گیا ہے، تاہم محکمہ جل شکتی کی جانب سے اس ٹینک میں پانی فراہم کرنے کے بجائے پانی کی لائن کو کسی اور سمت موڑ دیا گیا ہے جس کی وجہ سے وارڈ کے رہائشی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان کے مقدس مہینے میں پانی کی قلت نے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق انہوں نے اس مسئلے کے حل کے لئے متعدد مرتبہ جونئر انجینئر، اسسٹنٹ انجینئر، ایگزیکٹو انجینئر اور محکمہ جل شکتی کے مقامی ملازمین سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن کسی بھی افسر نے فون اٹھانے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ محکمہ کے کچھ ملازمین کی لاپرواہی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔علاقہ مکینوں نے محکمہ جل شکتی کے خلاف شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ماہ سے وہ پانی کے لئے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، لیکن ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کے ذمہ دار ملازمین کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور پانی کی سپلائی بحال کریں تاکہ عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔مقامی لوگوں نے جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری اور متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس مسئلے کا فوری نوٹس لیا جائے اور ذمہ دار ملازمین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے جلد از جلد پانی کی سپلائی بحال کی جائے تاکہ عوام کو اس شدید بحران سے نجات مل سکے۔