عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// ملک بھر میں رنگوں کا تہوار ہولی کل روایتی جوش و خروش اور خوشی کے ماحول میں منایا یا گیا۔ہولی بہار کی آمد اور فصل کی کٹائی کے موسم کی علامت ہے۔ یہ تہوار ہندو مذہبی روایات میں گہری جڑیں رکھتا ہے اور خوشی ،معافی ،ایک دوسرے کو درگذر کرنا اور نئی شروعات کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ہولی کا آغاز ہولیکا دہن کی رسم سے ہوتا ہے جس میں الاو روشن کیا جاتا ہے۔ اگلے دن رنگوں کے ساتھ خوشی اور یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ملک کے مختلف شہروں اور قصبوں میں لوگ ایک دوسرے کو رنگ لگا کر اس تہوار کی خوشیاں بانٹ رہے ہیں۔ ہولی کو ہندوستان کے اہم تہواروں میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ ب ±رائی پر اچھائی کی جیت اور موسمِ بہار کی آمد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ہولی کے موقع پر گلی محلوں، بازاروں اور رہائشی علاقوں میں رنگوں کی بہار نظر آ رہی ہے۔ لوگ اپنے دوستوں، رشتہ داروں اور پڑوسیوں سے مل کر ایک دوسرے کو رنگ لگاتے ہیں اور مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ اس موقع پر مختلف مقامات پر لوگ روایتی گیتوں پر رقص کرتے ہوئے بھی نظر آ رہے ہیں جبکہ بچوں میں اس تہوار کا خاص جوش دکھائی دیتا ہے۔ بچے رنگ بھرے غبارے ایک دوسرے پر پھینک کر اور پچکاریوں کے ذریعے رنگ اڑا کر اس دن کو مزید یادگار بناتے ہیں۔اس سال رنگوں کا یہ تہوار دو الگ الگ دنوں میں منایا جا رہا ہے۔ہولی کا تہوار ہندو اساطیر میں گہری جڑیں رکھتا ہے اور یہ نیکی کی بدی پر فتح کی علامت ہے۔ ہولی کا آغاز ہولیکا دہن کی رسم سے ہوتا ہے جس میں الاو جلایا جاتا ہے۔ اس کے اگلے دن لوگ رنگ کھیل کر خوشی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔اس سال رنگوں کا یہ تہوار دو الگ دنوں میں منایا جا رہا ہے۔ مغربی ہندوستان کی کئی ریاستوں جن میں ممبئی اور گجرات شامل ہیں میں منگل 3 مارچ کو تقریبات کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ شمالی ہندوستان میں مرکزی تقریبات بدھ 4 مارچ کو منائی گئیں