یوٹی کی ای۔فس میں منتقلی سے دربار کے دوران کروڑوں کی بچت ہوئی:ڈاکٹر جتیندر
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور وزیر مملکت برائے عملہ، عوامی شکایات و پنشنز و پی ایم او، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ جموں و کشمیر بھارت کے ’’وکست بھارت‘‘ وژن میں اہم کردار ادا کرنے اور ملک کی ترقی کی کہانی لکھنے میں مرکزی حکومت کے ساتھ قریبی شراکت داری کی صلاحیت رکھتا ہے۔وہ یہاں ’’نیشنل گورننس کانفرنس‘‘ سے خطاب کر رہے تھے جس کا موضوع ’’اضلاع کی ہمہ جہت ترقی‘‘ تھا۔مرکزی وزیر نے کہا کہ شمولیت اور وسیع تر شرکت کو یقینی بنانے کے لیے حکومت روایتی طریقوں سے آگے بڑھتے ہوئے حکمرانی کو دور دراز علاقوں تک لے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عصری بھارت کی ضروریات کے مطابق حکمرانی کے طریقوں کو بدلنے کی شعوری کوشش کا حصہ ہے۔آزادی کے بعد اصلاحات کے سفر کا جائزہ لیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اگرچہ بھارت نے ابتدا ہی میں جمہوری ڈھانچہ اختیار کر لیا تھا، تاہم حالیہ برسوں میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکمرانی کی اصلاحات کو نئی اور مرکوز رفتار ملی۔ انہوں نے ’’کم سے کم حکومت، زیادہ سے زیادہ حکمرانی‘‘ کے رہنما اصول پر زور دیتے ہوئے شفافیت اور کارکردگی کے لیے ٹیکنالوجی کے زیادہ سے زیادہ استعمال اور انسانی مداخلت میں کمی کو اہم قرار دیا۔انہوں نے بتایا کہ حکومت ہند کے تقریباً 90فیصد کام اب آن لائن ہو چکے ہیں اور اسے ٹیکنالوجی کے بہترین استعمال کا جادو قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ’’آسپیرایشنل ڈسٹرکٹس پروگرام‘‘ مسابقتی اور تعاونی وفاقیت کی منفرد مثال ہے، جو اضلاع کو بہترین طریقہ کار اپنانے اور اعلیٰ کارکردگی کے لیے کوشاں رہنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے اضلاع کو وزیر اعظم کی جانب سے سراہا جاتا ہے، جس سے کارکردگی پر مبنی حکمرانی کی ثقافت فروغ پاتی ہے۔گزشتہ دہائی میں کی گئی بڑی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ تقریباً 2000متروک قوانین کو ختم کیا گیا، جن میں سے کئی کے سماجی و معاشی اثرات نمایاں تھے۔ انہوں نے پنشن اصلاحات، گزٹیڈ افسران سے تصدیق کے طریقہ کار کے خاتمے، اور بعض بھرتیوں میں انٹرویو ختم کرنے جیسے اقدامات کو شفافیت اور میرٹ کے فروغ کا ذریعہ قرار دیا۔شکایات کے ازالے کے حوالے سے انہوں نے سی پی گرامس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 90 فیصد شکایات ایک ہفتے کے اندر نمٹا دی جاتی ہیں۔ انہوں نے فیس ریکگنیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ اور یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (UPI) کو بھی عالمی سطح کی کامیاب مثالیں قرار دیا، جنہوں نے ڈیجیٹل ادائیگیوں میں انقلاب برپا کیا ہے۔صلاحیت سازی کے اقدام مشن کرمایوگی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ’’ضابطہ بنیاد‘‘ سے ’’کردار بنیاد‘‘ حکمرانی کی طرف منتقلی ہے۔ انہوں نے 2021میں شروع کی گئی سالانہ صفائی مہم کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 4200کروڑ روپے مالیت کا الیکٹرانک اسکریپ ٹھکانے لگایا گیا اور سرکاری دفاتر میں تقریباً 930لاکھ مربع فٹ جگہ خالی ہوئی۔انہوں نے سموتا سکیم کی کامیابی کو بھی اجاگر کیا، جو جموں میں شروع کی گئی اور دیہی زمین مالکان کو قانونی ملکیتی دستاویزات فراہم کر کے بااختیار بنایا۔گزشتہ 11 برسوں میں جموں و کشمیر میں کی گئی اہم اصلاحات میں آن لائن آر ٹی آئی، سینٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل بنچ کا قیام، لیہہ میں سول سروسز امتحانی مرکز، سی پی گرامس کا انضمام اور جے کے اے ایس افسران کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام شامل ہیں۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اعتماد ظاہر کیا کہ جموں و کشمیر بے پناہ صلاحیتوں کا حامل ہے اور مرکزی اقدامات و مواقع سے بھرپور استفادہ کر کے بھارت کی ترقی کی داستان میں مشعلِ راہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈین انسٹی چیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن جموں و کشمیر کے کونسلروں، کارپوریٹروں، پی آر آئی نمائندوں اور جے کے اے ایس افسران کے لیے تربیتی پروگرام منعقد کر رہا ہے۔
جموں ضلعی سطح پر ہمہ جہت ترقی موضوع پر نیشنل گورننس کانفرنس منعقد