عظمیٰ نیوز سروس
ریاسی//بلاک چسانہ میں شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی جموں کی جانب سے ایک روزہ ایف پی او–بینک/انشورنس انٹریکشن پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں کسانوں اور فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف پی اوز) کو مالی شمولیت اور زرعی ترقی سے متعلق مختلف اسکیموں کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔ پروگرام میں ایف پی او کونسر ناگ فارمرز پروڈیوسرز کوآپریٹو لمیٹڈ کے اراکین سمیت متعدد کسانوں نے شرکت کی۔یہ پروگرام جموں و کشمیر کمپٹیٹیونس امپروومنٹ پروجیکٹ (جے کے سی آئی پی) کے تحت منعقد کیا گیا جس کا مقصد کسان تنظیموں کو بینکنگ نظام سے جوڑنا، قرضہ سہولیات تک رسائی بڑھانا اور زرعی شعبے میں جدید مالی معاونت کے بارے میں بیداری پیدا کرنا تھا۔
پروگرام کے دوران جموں و کشمیر بینک کے نمائندے رنجیت سنگھ منہاس، کراپ انشورنس کے دلیپ سنگھ اور دیگر ماہرین نے کسانوں سے براہ راست بات چیت کی۔ انہوں نے جے کے سی آئی پی اور ہولسٹک ایگریکلچر ڈیولپمنٹ پروگرام (ایچ اے ڈی پی) کے تحت دستیاب قرضہ اسکیموں، ورکنگ کیپیٹل سپورٹ اور ادارہ جاتی مالی معاونت کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔شرکاء کسانوں نے مالی وسائل تک رسائی، ضمانت کی شرائط، شرح سود میں رعایت، قرضہ واپسی کے طریقہ کار اور زرعی کاروبار و معاون سرگرمیوں میں بینکوں کے کردار پر تبادلہ خیال کیا۔ پروگرام کی نگرانی ایف پی او ڈیولپمنٹ آفیسر راکیش کنڈل نے کی۔اس موقع پر محکمہ باغبانی منصوبہ بندی و مارکیٹنگ کے افسران نے اپنے فیلڈ تجربات اور درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی اور جے کے سی آئی پی، ایچ اے ڈی پی اور پی ایم ایف ایم ای منصوبوں کے تحت جاری اسکیموں سے متعلق آگاہی فراہم کی۔ ایف پی او سیکریٹری جیت سنگھ نے بھی شرکاء کو مختلف سرکاری اسکیموں اور ان کے فوائد سے روشناس کرایا۔پروگرام کے اختتام پر کسانوں نے ایسے عملی اور معلوماتی پروگراموں کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔