سمت بھارگو
احمد آباد//گجرات حکومت ریاست کے نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع بڑھانے کے مقصد سے مختلف شعبوں میں مسلسل اقدامات کر رہی ہے اور آئندہ دس برسوں کے دوران 10 لاکھ سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صنعتی تربیتی اداروں (آئی ٹی آئی) اور اسکل ڈیولپمنٹ سینٹروں (ایس ڈی سی) کو جدید تقاضوں کے مطابق مضبوط بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔گجرات کے نائب وزیر اعلیٰ ہرش سنگھوی نے یہ بات جموں، پنجاب اور چندی گڑھ سے آئے صحافیوں کے ایک وفد کے ساتھ بات چیت کے دوران کہی۔ یہ دورہ پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) جموں کی جانب سے پی آئی بی گجرات کے تعاون سے منعقد کیا گیا تھا۔ ملاقات کے دوران مختلف موضوعات زیر بحث آئے تاہم روزگار کی فراہمی سب سے اہم مسئلہ رہا۔نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گجرات طویل عرصے سے سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں روزگار فراہم کرنے والی نمایاں ریاست رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کے تعاون سے ریاست میں روزگار کے مواقع مزید وسیع کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے اگلے دس سالوں میں دس لاکھ سرکاری نوکریاں فراہم کرنے کا واضح منصوبہ تیار کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صرف سرکاری ملازمتوں پر ہی انحصار نہیں کیا جا رہا بلکہ نجی شعبے میں بھی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے گجرات ملک بھر کی بڑی کمپنیوں کی پہلی ترجیح بنتا جا رہا ہے۔ہرش سنگھوی نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سال 2007 میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے گجرات کو آٹو موبائل مینوفیکچرنگ ہب بنانے کا خواب دیکھا تھا، جس پر عملی اقدامات کئے گئے اور اب اس کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اندازہ ہے کہ سال 2029 تک ماروتی کمپنی گجرات میں سالانہ تقریباً 20 ہزار گاڑیاں تیار کرے گی۔انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ ریاست میں چار نئے سیمی کنڈکٹر یونٹس پر کام جاری ہے، جو بھارت کے سیمی کنڈکٹر مشن کو تقویت دیتے ہوئے درآمدات پر انحصار کم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ حکومت کو امید ہے کہ ان منصوبوں سے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے اور صنعتی ترقی کو نئی رفتار ملے گی۔