جاوید اقبال
مینڈھر // مینڈھر میں پنچایت پلان 2025–26 کے تحت گرام سبھا اجلاسوں میں منظور شدہ ہینڈ پمپ کی مبینہ منتقلی کے معاملے نے مقامی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس سلسلے میں معروف سماجی کارکن تنویر اقبال قریشی نے شدید اعتراض ظاہر کرتے ہوئے انتظامیہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔اس سلسلہ میں الزام عائد کرتے ہوئے تنویر اقبال قریشی نے کہا کہ مختلف پنچایتوں میں گرام سبھا اجلاس باقاعدہ طور پر منعقد ہوئے تھے، جہاں عوامی مشاورت کے بعد پینے کے پانی کی قلت کو مدنظر رکھتے ہوئے مخصوص مقامات پر ہینڈ پمپ نصب کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔
ان کے مطابق گرام سبھا نچلی سطح کی جمہوریت کی بنیاد ہے اور اس کے فیصلے عوامی رائے کی نمائندگی کرتے ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ منظور شدہ منصوبوں میں تبدیلی کرتے ہوئے بعض ہینڈ پمپ اصل مقامات سے ہٹا کر دیگر علاقوں میں منتقل کئے جا رہے ہیں، جو عوامی اعتماد کے منافی ہے۔ قریشی کا کہنا تھا کہ اجتماعی فیصلوں میں رد و بدل نہ صرف جمہوری اقدار کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے شفافیت پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی کاموں کا کریڈٹ لینے کی سیاست مناسب نہیں، خاص طور پر ایسے منصوبوں میں جن کی منظوری عوامی اتفاقِ رائے سے دی گئی ہو۔ ان کے مطابق اگر منصوبے گرام سبھا قرارداد کے تحت منظور ہوئے ہیں تو انہیں بغیر کسی تبدیلی کے وہیں مکمل کیا جانا چاہیے۔قریشی نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے پر سوشل میڈیا پر بھی عوامی ردعمل سامنے آ رہا ہے اور لوگ انتظامی طریقہ کار پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے شفاف تحقیقات، جوابدہی اور گرام سبھا فیصلوں پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عوامی اعتماد کی بحالی انتہائی ضروری ہے۔