محتشم احتشام
پونچھ//گورنمنٹ ڈگری کالج سرنکوٹ میں قومی یومِ سائنس کے موقع پر ایک روزہ قومی سیمینار نہایت جوش و خروش اور علمی وقار کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ اس تقریب کے ساتھ ہفت روزہ ورکشاپ، این ایس ایس سرمائی کیمپ، ایچ آئی وی/ایڈز ڈے اور روڈ سیفٹی ویک کی اختتامی تقریب بھی انجام پذیر ہوئی۔ سیمینار کا مرکزی عنوان نوجوان اذہان کی اختراعی صلاحیتوں کو پائیدار اور آفات سے محفوظ مستقبل کی تعمیر کی جانب راغب کرنا تھا۔تقریب کا آغاز قومی ترانے اور کالج ترانے سے ہوا جس نے فضا کو حب الوطنی اور سنجیدگی سے ہمکنار کر دیا۔ شعبہ حیوانیات کے سربراہ پروفیسر فتح محمد عباسی نے معزز مہمانانِ گرامی کا خیرمقدم کرتے ہوئے قومی یومِ سائنس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ نظامت کے فرائض پروفیسر فاطمہ بی (شعبہ سیاسیات) نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دئیے۔اس موقع پر مہمانِ خصوصی محمد ارشاد (ڈی آئی جی، ایس ڈی آر ایف و سول ڈیفنس) نے خطہ پیر پنجال میں پیش آنے والی قدرتی و انسانی آفات کی وجوہات اور مثالوں پر مبنی جامع گفتگو کرتے ہوئے طلبہ کو سائنسی شعور کے ذریعے قوم کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔
انہوں نے کالج انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ ایسے پروگرام نوجوان نسل میں سائنسی مزاج پیدا کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔کلیدی مقرر ڈاکٹر عارف ولی (ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر، لینڈ ریسورسز ڈویڑن، ٹیری) نے آن لائن خطاب میں کاربن ٹریڈنگ، ماحولیاتی پائیداری اور آفات سے نمٹنے کے لئے سائنسی تحقیق کی ضرورت پر زور دیا۔ مہمانِ اعزاز جناب مسلم وانی (پرنسپل، اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ) نے سائنس، ٹیکنالوجی اور ایمان کے باہمی ربط کو معاشرتی فلاح کے لئے ناگزیر قرار دیا۔ خصوصی مہمان غلام احمد خواجہ نے اپنے تعلیمی سفر کی جدوجہد بیان کرتے ہوئے موجودہ سائنسی ترقیات کو خطہ پیر پنجال کے لئے خوش آئند قرار دیا۔ڈاکٹر حق نواز میر نے این ایس ایس سرمائی کیمپ کی مفصل رپورٹ پیش کی اور اس کے نمایاں نتائج سے آگاہ کیا، جبکہ ڈاکٹر قمر مجید نے سائنسی مزاج اور تنقیدی فکر کی ترویج پر مدلل اور پرجوش خطاب کیا۔صدارتی خطاب میں کالج کی پرنسپل پروفیسر (ڈاکٹر) رانی مغل نے تمام معزز مہمانان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ماحولیاتی تحفظ اور شجرکاری کے حوالے سے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے طلبہ کو تحقیق، اختراع اور سائنسی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب دی اور منتظمین ڈاکٹر پرنس شرما، ڈاکٹر افتخار حسین شاہ، ڈاکٹر قمر مجید، ڈاکٹر آسم مصطفی، ڈاکٹر کرپال سنگھ اور پروفیسر سوبیہ انجم کی انتھک محنت کو سراہا۔تقریب کے دوران پیپر پریزنٹیشن، مباحثہ، مصوری، کوئز، پوسٹر سازی اور ماڈل نمائش جیسے علمی و تخلیقی مقابلوں کا انعقاد کیا گیا، جن کے منصفین ڈاکٹر افتخار حسین شاہ، ڈاکٹر کرپال سنگھ اور ڈاکٹر تاثیرِ اقبال تھے۔اس دوران پیپر پریزنٹیشن میں افرا اخلاق نے اول، ثاقب محمود نے دوم اور حسنین احمد کاظمی نے سوم پوزیشن حاصل کی۔مصوری کے مقابلے میں حسنین احمد کاظمی اول، ابراش اشاق دوم اور غلام نقاش سوم رہے۔مباحثہ میں حسنین احمد کاظمی، سید انشاء بخاری، ثاقب محمود، پورشیا منہاس، عالیہ مہک اور افشہ بھٹی پر مشتمل ٹیم نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔پوسٹر سازی میں سید طاہر سجاد اول، افشہ بھٹی دوم اور عظمٰی جبین سوم رہیں۔ماڈل نمائش میں محمد مطیع الرزاق خان اول اور افشہ بھٹی دوم قرار پائیں۔کوئز مقابلے میں حسنین احمد کاظمی، سید انشاء بخاری، پورشیا منہاس اور زارا کوثر کی ٹیم اول جبکہ محمد شاہ نواز و دیگر پر مشتمل ٹیم دوم رہی۔نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو معزز مہمانان اور پرنسپل نے اسناد سے نوازا۔ اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے محمد امتیاز مغل کو تعلیمی و ہم نصابی خدمات کے اعتراف میں تہنیت پیش کی گئی، جبکہ صحافت کے میدان میں نمایاں خدمات پر زمرد مغل (چیف ایڈیٹر، ہلا بول) کو بھی اعزاز سے نوازا گیا۔تقریب کا اختتام پروفیسر سوبیہ انجم کے شکریہ کے کلمات پر ہوا، جنہوں نے مہمانانِ گرامی، منتظمین، منصفین، میڈیا نمائندگان اور طلبہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسے علمی و سائنسی پروگرام آئندہ بھی تسلسل کے ساتھ منعقد کیے جاتے رہیں گے۔