محتشم احتشام
پونچھ// سرحدی ضلع پونچھ میں ان دنوں ٹریفک پولیس کی یکطرفہ کارروائی عوامی حلقوں میں بحث و مباحثے کا موضوع بنی ہوئی ہے۔شہریوں اور راہگیروں کا الزام ہے کہ شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک مسائل کے اصل اسباب کو نظر انداز کر کے محض آٹو رکشہ اور دو پہیہ گاڑیوں کو روک کر چالان کاٹنے کی روش اختیار کی جا رہی ہے، جب کہ ٹریفک جام کی بنیادی وجہ بننے والی ’میجک آٹو‘ گاڑیوں کے خلاف مؤثر کارروائی دکھائی نہیں دیتی۔اٹو رکشہ ڈرائیوروں کے مطابق اولڈ فورٹ چوک اور بازار جانے والے راستوں پر میجک آٹو ڈرائیور حضرات من مانے انداز میں گاڑیاں کھڑی کر دیتے ہیں، جس سے سڑکوں کی چوڑائی نصف رہ جاتی ہے اور گھنٹوں تک ٹریفک جام معمول بن چکا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ان بے ہنگم طور پر کھڑی گاڑیوں کی وجہ سے نہ صرف آمد و رفت متاثر ہوتی ہے بلکہ حادثات کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔عوامی حلقوں کا شکوہ ہے کہ ٹریفک پولیس کی توجہ ان ’کھڑی گاڑیوں‘ کی جانب کم اور ’چلتی گاڑیوں‘ کی طرف زیادہ مرکوز ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ چالان کی کارروائیاں محض ہدف پورا کرنے تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ شہریوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ٹریفک نظام کو بہتر بنانا مقصود ہے تو پھر اصل مسئلے یعنی غیر قانونی پارکنگ اور غیر مجاز اسٹینڈکے خلاف سخت اور بلا امتیاز کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟۔انہوں نے انتظامیہ اور ایس ایس پی ٹریفک (رورل) سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹریفک کی بہتری کے نام پر امتیازی سلوک ترک کیا جائے اور زمینی سطح پر ٹریفک جام کے بنیادی اسباب کا تدارک کیا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جب تک سڑکوں پر غیر قانونی طور پر کھڑی میجک گاڑیوں کے خلاف ٹھوس اور مستقل کارروائی نہیں ہوگی، پونچھ شہر کو ٹریفک جام کے عذاب سے نجات ملنا مشکل ہے۔شہریوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اعلیٰ حکام عوامی شکایات کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے ایسا لائحہ عمل وضع کریں گے جس سے نہ صرف ٹریفک نظم و نسق میں بہتری آئے بلکہ قانون کی عملداری بھی یکساں طور پر یقینی بنائی جا سکے۔