سمت بھارگو
راجوری//پہلگام حملے کے بعد سندھ طاس معاہدہ کی معطلی کے تناظر میں جموں و کشمیر حکومت اب مرکزی زیرِ انتظام خطے میں موجود آبی وسائل کے بھرپور استعمال کے امکانات کا جائزہ لینے پر غور کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں گجرات کے معروف سردار سروور ڈیم کے انجینئرز نے امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل قریب میں جموں و کشمیر حکومت اور متعلقہ وزارت کا ایک وفد ڈیم کا دورہ کرے گا۔یہ توقعات اس وقت سامنے آئیں جب گزشتہ برس 31 جولائی کو جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ڈیم سائٹ کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر ماہرین کی ایک ٹیم، جس کی قیادت گائیڈ میور سنگھ راول کر رہے تھے، نے انہیں ڈیم کے تکنیکی پہلوؤں، تعمیراتی خصوصیات اور انتظامی نظام کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی تھی۔
بتایا جاتا ہے کہ کنکریٹ کے حجم کے لحاظ سے یہ دنیا کے بڑے ڈیموں میں شمار ہوتا ہے۔ڈیم کے انجینئرز نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے منصوبے کے انتظامی اور تکنیکی نظام کو سراہا تھا اور جموں و کشمیر میں موجود وسیع آبی صلاحیت کو بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ نے عندیہ دیا تھا کہ متعلقہ وزارت، انجینئرز اور افسران پر مشتمل ایک ٹیم مستقبل میں ڈیم کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے لئے یہاں آئے گی تاکہ جدید آبی منصوبوں کے مختلف پہلوؤں کو سمجھا جا سکے۔یہ باتیں اس وقت سامنے آئیں جب کشمیر عظمیٰ کی ایک صحافتی ٹیم، جسے پریس انفارمیشن بیورو (PIB) جموں کی جانب سے گجرات کے مطالعاتی دورے پر لے جایا گیا، نے ڈیم حکام سے ملاقات کی۔ انجینئرز نے بتایا کہ وزیراعلیٰ نے اپنے دورے کے دوران منصوبے کے ہر تکنیکی پہلو کو باریک بینی سے سمجھنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی تھی اور انتظامیہ کی محنت و لگن کی تعریف کی تھی۔ڈیم انتظامیہ کے مطابق وہ جموں و کشمیر کے ممکنہ وفد کے استقبال کے لئے پْرامید ہیں، کیونکہ دونوں خطوں کے درمیان تکنیکی تبادلہ مستقبل میں آبی وسائل کے بہتر استعمال، توانائی پیداوار اور ترقیاتی منصوبوں کو نئی سمت دے سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر جدید آبی انتظام کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جائے تو جموں و کشمیر میں پن بجلی اور آبپاشی کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت ممکن ہے۔