سمت بھارگو
احمد آباد//ملک میں موسمیاتی تغیرات کے بڑھتے خدشات کے درمیان انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (ISRO) نے بدلتے موسمی پیٹرن اور مسلسل بڑھتے درجہ حرارت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ماحولیاتی تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر پالیسی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔احمد آباد میں اسرو کے ایک پروگرام کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ابھا چھبرا نے کہا کہ ادارے کی اہم ذمہ داریوں میں خلا سے زمین کے ماحول کا سائنسی مطالعہ شامل ہے، جس میں آلودگی اور اس کے طویل مدتی اثرات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسرو کے سائنس دان ملک بھر میں درجہ? حرارت کے رجحانات، فضائی تبدیلیوں اور دیگر ماحولیاتی عوامل کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ڈاکٹر چھبرا کے مطابق ماہرینِ ماحولیات نے برسوں قبل جن تبدیلیوں کی پیش گوئی کی تھی، وہ اب حقیقت کی صورت میں سامنے آ رہی ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سائنسی تحقیق ٹھوس شواہد پر مبنی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اسرو پورے ملک بشمول جموں و کشمیر میں جامع مطالعات انجام دے رہا ہے تاکہ ماحولیاتی بگاڑ، آلودگی کی سطح اور قدرتی نظام میں ہونے والی تبدیلیوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں موسمی پیٹرن میں نمایاں تبدیلیاں ریکارڈ کی جا رہی ہیں، خاص طور پر مانسون کے نظام میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے اور فروری جیسے نسبتاً معتدل مہینے میں بھی کئی علاقوں میں غیر معمولی گرمی درج کی گئی ہے۔ڈاکٹر چھبرا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انسانی سرگرمیاں ماحولیاتی تبدیلیوں کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسرو کے سائنس دان باقاعدگی سے پالیسی سازوں کو اعداد و شمار پر مبنی سفارشات فراہم کرتے ہیں تاکہ ماحولیاتی خطرات کو کم کیا جا سکے اور مستقبل کے لیے مؤثر حکمت عملی تیار کی جا سکے۔