محتشم احتشام
پونچھ//سرحدی ضلع فون میں مختلف بینکوں کے اے ٹی ایم جو کہ مختلف مقامات پر نصب ہیں یا تو بند رہتے ہیں یا ان میں رقم ہی نہیں ہوتی ہے جس کی وجہ سے اکثر عوام پریشان رہتی ہے۔ ہاتھی تھان بازارپونچھ میں نصب جموں کشمیر بینک کا ایک اے ٹی ایم اکثر بند رہتا ہے جس کی وجہ سے عوام کو کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق مذکورہ اے ٹی ایم یا تو مکمل طور پر بند رہتا ہے یا اس میں کیش دستیاب نہیں رہتی، جس کے باعث تاجروں، بزرگ شہریوں، معذور افراد اور دور دراز علاقوں سے آنے والے روزہ داروں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بازار کے وسط میں واقع ہونے کی وجہ سے اس اے ٹی ایم پر رش معمول سے زیادہ رہتا ہے، تاہم سہولت کے بجائے یہ مشین زحمت بن چکی ہے۔
مقامی تاجر جاوید اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ متعدد بار رقم نکلوانے کی غرض سے اے ٹی ایم پر گئے، لیکن اکثر مشین بند ملی۔ بینک عملے کی جانب سے بجلی کی عدم دستیابی کو وجہ قرار دیا جاتا ہے۔شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر شہر کے دیگر مقامات، جیسے اعلیٰ پیر، مین برانچ اور بس اسٹینڈ پر قائم مختلف بینکوں کے اے ٹی ایم جنریٹر یا متبادل پاور سپلائی کے ذریعے چوبیس گھنٹے فعال رہ سکتے ہیں، تو ہاتھی تھان کے اس اہم مقام پر ایسے انتظامات کیوں نہیں کیے گئے؟ عوامی حلقوں میں اس حوالے سے بینک انتظامیہ کی خاموشی پر شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران خریداری اور ضروریاتِ زندگی کی تکمیل کے لیے نقدی ناگزیر ہوتی ہے، مگر گھنٹوں انتظار کے باوجود مشین کا ‘‘آؤٹ آف سروس’’ ہونا عوام کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔اہلِ علاقہ نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ اشوک کمار شرما سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں ذاتی مداخلت کرتے ہوئے بینک حکام کو طلب کریں اور رمضان و عید کے پیشِ نظر تمام بینکوں کو اے ٹی ایم کی 24 گھنٹے فعالی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کریں۔ ساتھ ہی غفلت کے مرتکب ذمہ داران کے خلاف کارروائی اور ہاتھی تھان اے ٹی ایم کے لیے فوری طور پر جنریٹر یا یو پی ایس کی مستقل سہولت فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مفاد کے اس اہم مسئلے پر فوری توجہ دے کر روزہ داروں کو درپیش مشکلات کا ازالہ کرے گی۔