عظمیٰ نیوز سروس
جموں//جموں وکشمیر انجمن فروغ اردو کے اہتمام سے بین الاقوامی یومِ مادری زبان کے موقع پر ایک شاندار اور باوقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت میر افروز صاحب نے کی۔ تقریب میں دانشوروں، ادیبوں، شعراء اور زبان و ادب سے وابستہ شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مقررین نے مادری زبانوں کی اہمیت، افادیت اور عصری تقاضوں کے پیشِ نظر ان کے تحفظ و ترویج کی ضرورت پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ تقریب میں اس امر پر زور دیا گیا کہ مادری زبان کسی بھی قوم کی تہذیبی شناخت اور ثقافتی ورثے کی بنیاد ہوتی ہے۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ نئی نسل کو اپنی ماں بولی سے جوڑنے کے لئے گھر سے ہی عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں تجویز پیش کی گئی کہ بچوں کو ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دی جائے تاکہ ان کی فکری و لسانی نشوونما مضبوط بنیادوں پر استوار ہو۔ اسکے علاوہ اسکولوں میں مادری زبانوں میں گفتگو اور ہم نصابی سرگرمیوں کے انعقاد کی بھی سفارش کی گئی۔ اہلِ قلم کو ترغیب دی گئی کہ وہ بچوں اور نوجوانوں کے لیے اپنی مادری زبانوں میں معیاری، دلچسپ اور دلکش ادب تخلیق کریں تاکہ مطالعہ کا ذوق پروان چڑھے اور زبان زندہ و توانا رہے۔اپنے صدارتی خطبے میں میر افروز نے کہا کہ مادری زبان انسان کی شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو قومیں اپنی زبان سے رشتہ مضبوط رکھتی ہیں وہی علمی و تہذیبی میدان میں ترقی کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مادری زبان صرف اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ ہماری تاریخ، روایات اور اجتماعی شعور کی امین ہے، اس لیے اس کے تحفظ کے لیے اجتماعی سطح پر سنجیدہ کوششیں ناگزیر ہیں۔میر افروز نے والدین، اساتذہ اور ادیبوں پر زور دیا کہ وہ نئی نسل کو اپنی زبانوں سے روشناس کرانے میں فعال کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر گھروں میں مادری زبان کو اہمیت دی جائے اور تعلیمی اداروں میں اسے فروغ ملے تو لسانی ورثہ محفوظ رہ سکتا ہے۔ انہوں نے انجمن کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی ایسی تقریبات کے ذریعے زبان و ادب کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔اس موقع پر ایک پروقار محفلِ مشاعرہ بھی منعقد کیا گیا جس میں جموں و کشمیر کے معروف شعراء نے اردو کے ساتھ ساتھ اپنی اپنی مادری زبانوں میں کلام پیش کر کے سامعین کو محظوظ کیا۔ شعرا نے ماں اور ماں بولی کے رشتے کو اجاگر کرتے ہوئے لسانی ہم آہنگی اور ثقافتی یگانگت کا پیغام دیا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض عبدالمجید کانلو نے انجام دئے۔تقریب کے اختتام پر صدرِ ابجمن فوزیہ مغل نے منتظمین اور شرکائے تقریب کا شکریہ ادا کیا اور مادری زبانوں کے فروغ کے لیے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا۔