محتشم احتشام
پونچھ//ضلع پونچھ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنان نے کانگریس کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ نئی دہلی میں منعقدہ اے آئی سمٹ کے دوران کانگریس اور یوتھ کانگریس سے وابستہ عناصر نے بدنظمی پیدا کر کے عالمی سطح کے اس اہم پروگرام کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔ بی جے پی رہنماؤں جن میں خواتین اور مرد رہنما دونوں شامل تھے نے اس عمل کو قومی وقار کے منافی قرار دیتے ہوئے کانگریس قیادت سے باضابطہ معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دہلی میں منعقدہ اے آئی سمٹ ملک کے لئے ایک اہم بین الاقوامی پلیٹ فارم تھا، جہاں جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور عالمی شراکت داری سے متعلق اہم امور زیرِ بحث آئے۔ ایسے موقع پر احتجاجی سیاست کو فروغ دینا اور پروگرام میں خلل ڈالنے کی کوشش کرنا نہایت غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔بھاجپاکے مطابق یوتھ کانگریس کارکنوں نے ہندوستان۔امریکہ تجارتی معاہدے کی مخالفت میں نیم برہنہ احتجاج کیا، جو نہ صرف سیاسی آداب کے خلاف ہے بلکہ نوجوانوں کو غلط پیغام دینے کے مترادف بھی ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حصہ ہے، مگر احتجاج کے لیے شائستہ اور آئینی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔احتجاجی مظاہرے کے دوران بی جے پی کارکنان نے کانگریس اور اس کے قائدین کے خلاف نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ راہل گاندھی اس واقعے پر قوم سے معافی مانگیں۔ مقررین نے کہا کہ عالمی سطح کے پروگرام میں اس طرح کی حرکتیں ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، جس کی ذمہ داری اپوزیشن قیادت پر عائد ہوتی ہے۔بی جے پی نے مزید کہا کہ ہندوستان عالمی سطح پر تیزی سے ابھر رہی معیشت اور ٹیکنالوجی کی طاقت بن رہا ہے، اور ایسے وقت میں قومی مفاد کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔ پارٹی نے خبردار کیا کہ اگر کانگریس قیادت نے اس معاملے پر وضاحت پیش نہ کی تو ملک گیر سطح پر احتجاجی مہم چلائی جائے گی۔