ماہِ رحمت
حمیرا فاروق
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر بےشمار احسان کئے، جہاں وہ ہر دن ایک نئی زندگی تلاش کرنا چاہے تو بآسانی کر سکتےہیں ۔ ان عظیم نعمتوں سے ہمیں نوازا گیا جو ہماری زندگی میں تغیر کا سبب بنتی ہے۔ انہی بہترین نعمتوں میں سے مہینوں میں سب سے بہترین رمضان المبارک ہے، جس کی آمد سے دل بےلوث مسرت سے لبریز اور خوشیوں کی جھونک موجودہ غم کو اس طرح کھا رہی ہے جس طرح طوفان میں پتھر سے جمی ہوئی دھول اُڑ جاتی ہے، جس کا ہر جھونکا ایک نئی فکر ،نئی سمت اور نئی زندگی کا پیغام دیتی ہے۔ رمضان المبارک کے روزے ہر بالغ،عاقل اور صحت مند مسلمان پر فرض ہیں۔ اس نور رمضان سے ایمان تازہ اور نفس شیاطین کے وسوسوں سے محفوظ رہتا ہے کیونکہ اس بابرکت مہینے میں جنات کو قید میں رکھا جاتا ہے جو ابن آدم کو ہر وقت برائیوں پر اُکسا رہے ہوتے ہیں ۔ جنت کے دروازے کھل جاتے اور جہنم کے دروازے بند کئے جاتے ہیں۔ اس مہینے میں مومن رب کی رحمت خاصہ میں آتے ہیں ۔وہ ربّ جو اتنا مہربان و رفیق کہ اپنے بندوں سے کہتےہیں کہ ہے کوئی اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرنے والا، میں بخش دیتا ہوں ۔
یہ مہینہ باقی مہینوں کے برعکس مستثنیٰ ہے ۔ یہ برکت رحمت ، عظمت، مغفرت اور زندگی کو بدلنے والا مہینہ ہے جس میں ہر نیکی پر دس گنا ثواب کا اضافہ کیا جاتا ہے ۔یہ اس امت کے لیے خاص ہیں اور اللہ نے ہمیں اتنے مواقع فراہم کئےکہ ہم آسانی سے اپنے لئے جنت میں ایک گھر تیار کر سکتے ہیں ۔یہ مہینہ نیکیاں کمانے کا مہینہ ہے، گناہوں سے دور اور نور کا مہینہ ۔رمضان المبارک وہ عظیم الشان مہینہ ہے جو برکتوں ،بخشش اور مغفرت کے لیے مخصوص ہیں ۔اسی مقدس مہینے کے بارے میں اللہ کا ارشاد ہیں ،’’مسلمانو! تم پر روزے اس طرح فرض کر دیے گئے جس طرح تم سے پہلی امتوں اور قوموں پر اس سے پہلے فرض کیے گئے تھے تاکہ تم میں تقوی پیدا ہو۔‘‘قبل رمضان انسان کو بہت ساری چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے ،بالخصوص صحت کی کیونکہ بغیر صحت کے انسان روزہ نہیں رکھ سکتا، لہٰذا رمضان المبارک کے لیے ایک انسان کا صحت مند ہونا ضروری ہے ۔جس کے لیے ہمیں پہلے ہی تیار رہنا ہے ۔انسان کوایسی کوئی بھی غذا نہیں کھانی چاہیے، جس سے اس کے روزے متاثر ہو جائے ۔
یہ وہ مہینہ ہے جو ہمیں واقعی ایک انسان کی حیثیت سے دنیا میں رہنے کا سلیقہ سکھاتا اور اخلاق کو بہتر بنانے کا ایک ذریعہ بھی ہے ۔یہ ہمیں تمام لغویات، غیبت بدزبانی اوردیگر فضولیات سے بچاتا ہے ۔ رسول اللہ ؐ کا ارشاد ہے،’’جس نے روزہ رکھ کر بھی بدزبانی اور جھوٹ نہ چھوڑا تو اللہ کو اس کا کھانا پینا چھوڑ دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘حرام چیزیں تو تا دم حرام ہی رہیں گے، لیکن اس مہینے میں حلال چیزوں پر بھی اللہ تعالیٰ نے پابندی عائد کی ہے ۔ جس میں سحری سے لے کر افطاری تک رکھنا فرض ہے، اسکے بعد انسان عائد کردہ پابندیوں سے آزاد رہتا ہے۔ جن کے بارے میں اللہ نے ہمیں رُک جانے کا حکم دیا ہے ۔رسول اللہ ؐ کا ارشادِ گرامی ہے،’’جب کوئی بھول گیا اور کچھ کھا پی لیا تو اُسے چاہیے کہ اپنا روزہ پورا کرے کیونکہ اس کو اللہ نے کھلایا اور پلایا۔‘‘
حدیث پاک کے مطابق روزے کا اجر براہ راست اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔ ایمان اور احتساب کے ساتھ روزہ رکھنے سے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
ماہ مبارک کچھ مخصوص خوبیوں کی وجہ سے اپنی فضائل کے ساتھ آتا ہے، جس میں لیلۃ القدر کی مبارک رات جو ہزار سالوں سے بہتر ہے ۔اس مہینے میں نزول قرآن ہوا جو بنی نوع انسان کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے۔اس مہینے میں افطاری کے وقت امت کی دعا قبول کی جاتی ہے،جہاں فرشتے ہماری دعا کے ساتھ شامل رہتے ہیں ۔ماہ مبارک کے تین عشرے ہیں جس میں پہلا عشرہ رحمت، دوسرا عشرہ مغفرت اور آخری عشرہ نار جہنم سے نجات کے ہیں۔ اس ماہ میں ایک فرض کا ثواب سترفرائض کے برابر ہے اور ان ایام میں دوران روزہ جو روزے دار کے منہ سے بُو نکلتی ہے، وہ رب کو بہت پسند آتی ہیں ۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور اس کا انعام جنت ہے۔
حضرت سہل بن سعدی ،رسول اللہ ؐ کا ارشاد نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’ جنت کے آٹھ دروازے ہیں ،ان میں ایک دروازے کا نام ’’ریان‘‘ ہے، جس میں سے صرف روزے دار داخل ہوں گے۔‘‘الغرض رمضان المبارک ہمارے لئےایک تربیتی کورس ہے جو ہمیں باقی مہینوں کے لیے ایک راہ راست دکھاتا ہے۔ اس سے نفس تمام کثافتوں اور غلاظتوں سے پاک ہو جاتا ہے، دل کے ساتھ ساتھ مزاج کی خرابیاں بھی دور ہو جاتی ہے۔ یہ نیکیاں کمانے کا بہترین مہینہ ہے ۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اس بابرکت مہینے میں اپنے گناہوں کی مغفرت کروائے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت خاصہ میں داخل ہو جائے تاکہ ہماری اُخروی زندگی سنور جائیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مبارک مہینے میں مکمل اپنے احکام کے ساتھ عمل کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری آگے کی زندگی کو سنورنے کا ذریعہ بھی بنائے ۔اللہ کرے کہ اس امت کے لئے یہ مہینہ باعث رحمت مغفرت اور عذاب جہنم سے بچنے کا ایک ذریعہ بنائیں۔آمین