نومنتخب حکومت ملک کااستحکام بحال کرنے کیلئے پرعزم
یواین آئی
ڈھاکہ// بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے صدر اور 17 سالہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس آنے والے طارق رحمان نے منگل کے روز بنگلہ دیش کے نئے وزیر اعظم کے طور پر حلف لیا۔ صدر محمد شہاب الدین نے سہ پہر 4.15 بجے انہیں بنگلہ دیش کے نئے وزیر اعظم کا حلف دلایا۔ طارق رحمان بنگلہ دیش کے گیارہویں وزیر اعظم ہیں۔ جولائی 2025 میں وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد محمد یونس بنگلہ دیش حکومت کے مشیر کے طور پر ملک کے معاملات سنبھال رہے تھے۔ یونس کی نگرانی میں تقریباً آٹھ ماہ تک جاری رہنے والے دورِ اقتدار کے بعد 12 فروری 2026 کو بنگلہ دیش کے عام انتخابات منعقد ہوئے۔ تقریبِ حلف برداری میں مختلف ممالک کے وزراء اور مندوبین شریک ہوئے۔اس سے قبل بنگلادیش کے نومنتخب اراکینِ پارلیمنٹ نے حلف اٹھایا تھا۔ نومنتخب ارکان کی تقریبِ حلف برداری ڈھاکا میں ہوئی تھی۔ بنگلادیش کے چیف الیکشن کمشنر نے اراکینِ پارلیمنٹ سے حلف لیا تھا۔ واضح رہے کہ بی این پی نے عام انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔بی این پی نے ان انتخابات میں 299 میں سے 209 نشستیں جیت کر تاریخ رقم کی۔ملک کی سب سے بڑی اسلامی جماعت، بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی، دوسری بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔آج صبح کے وقت نومنتخب اراکینِ پارلیمان نے ڈھاکہ میں پارلیمنٹ کی عمارت میں حلف اٹھایا۔ چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین نے ان سے بنگلہ دیش سے وفاداری کا حلف لیا۔رحمان 17 کروڑ آبادی والے ملک کی قیادت نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں قائم عبوری حکومت سے سنبھالیں گے۔ یہ منتقلی 18 ماہ کے عبوری دور کا اختتام ہے، جو اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی تحریک کے بعد شروع ہوا تھا۔ اس تحریک کے نتیجے میں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور ان کے 15 سالہ دورِ حکومت کا خاتمہ ہوا۔طارق رحمان نے مہینوں جاری رہنے والے ہنگاموں کے بعد استحکام بحال کرنے اور ترقی کو دوبارہ زندہ کرنے کا عہد کیا ہے۔ ان ہنگاموں نے دنیا کے دوسرے سب سے بڑے گارمنٹ برآمد کنندہ اس ملک میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مجروح کر دیا تھا۔انہوں نے تمام جماعتوں سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ برسوں کی تلخ ’دشمنی کی وجہ سے تقسیم شدہ ملک میں‘ اتحاد قائم کردیا۔