عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/ایم ایل اے لنگیٹ شیخ خورشید احمد نے منگل کے روز بی جے پی ایم ایل اے وکرم رندھاوا کے ان ریمارکس کا معاملہ ایوان میں اٹھایا جن میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ کشمیریوں نے جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جے ڈی اے) کی اراضی پر قبضہ کر رکھا ہے۔جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، شیخ خورشید اپنی نشست سے کھڑے ہو گئے اور اسپیکر کی توجہ رندھاوا کے بیان کی جانب مبذول کرائی۔
اسپیکر نے انہیں ہدایت دی کہ وہ اپنی نشست پر بیٹھ جائیں اور دو مرحوم اراکینِ اسمبلی کے لیے تعزیتی حوالہ جات پیش کرنے کی کارروائی مکمل ہونے دیں۔تعزیتی کارروائی کے بعد شیخ خورشید دوبارہ کھڑے ہوئے اور ایک پلے کارڈ لہرایا جس پر “خسرہ نمبر 211” درج تھا۔ یہ اقدام بظاہر وکرم رندھاوا پر طنز کے طور پر کیا گیا، جنہیں مبینہ طور پر منڈل تحصیل کے چک گنیشو گاؤں میں خسرہ نمبر 211 کی اراضی پر تجاوزات کے الزام میں جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔اسپیکر نے رکنِ اسمبلی کو ہدایت دی کہ وہ سوالیہ وقفہ میں خلل نہ ڈالیں اور ایوان کو معمول کے مطابق چلنے دیں۔