یواین آئی
دمشق//امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بڑے آپریشن کے بعد شام کی جیلوں میں قید داعش کے 5 ہزار سے زائد جنگجوؤں کو عراق منتقل کرنے کا عمل مکمل کر لیا ہے۔امریکی فوج کے مطابق یہ مشن علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے اور شام کی غیر مستحکم جیلوں سے قیدیوں کے فرار کے خطرے کو کم کرنے کے لیے انجام دیا گیا ہے۔ 23 روزہ طویل آپریشن کا اختتام 12 فروری 2026 کو آخری پرواز کے ساتھ ہوا۔عراقی حکام نے تصدیق کی ہے کہ مجموعی طور پر 5,704 قیدی لائے گئے ہیں۔ ان قیدیوں کا تعلق 60 سے زائد ممالک سے ہے۔عراق کے نیشنل سینٹر فار انٹرنیشنل جوڈیشل کوآپریشن کے مطابق 5 ہزار 704 قیدی عراق پہنچے ہیں، جن میں 3 ہزار 543 شامی، 467 عراقی اور 710 دیگر عرب ممالک کے شہری شامل ہیں، جبکہ 980 سے زائد افراد یورپ، ایشیا، آسٹریلیا اور امریکہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپریشن کا آغاز 21 جنوری 2026 کو ہوا اور یہ 12 فروری تک جاری رہا۔شام میں کرد فورسز اور شامی سرکاری افواج کے درمیان بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث جیلوں کے ٹوٹنے اور داعش کے دوبارہ منظم ہونے کا شدید خطرہ تھا۔عراقی وزیرِ اعظم محمد شیاع السوڈانی کے مطابق، یہ فیصلہ قومی اور بین الاقوامی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے تاکہ خطرناک دہشت گردوں پر عراقی قانون کے مطابق مقدمات چلائے جا سکیں۔عراق نے واضح کیا ہے کہ ان قیدیوں کے کھانے پینے اور دیگر اخراجات بین الاقوامی اتحاد برداشت کر رہا ہے۔داعش نے 2014 میں عراق اور شام کے بڑے حصوں پر قبضہ کر لیا تھا، تاہم 2017 میں عراق اور 2019 میں شام میں اس گروہ کی خلافت کا خاتمہ کر دیا گیا۔