یواین آئی
گوہاٹی// وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کانگریس پارٹی کو ہندوستان کا برا چاہنے والی اور دہشت گردانہ سوچ رکھنے والوں کا ساتھ دینے والی جماعت قرار دیتے ہوئے اس پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پارٹی ہندوستان کو ایک قوم تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے، اس لیے اس سے ملک کی بھلائی کی توقع نہیں کی جا سکتی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ جو جماعت ملک کو ایک قوم ماننے سے گریز کرے اور مادر وطن کے تئیں احترام نہ دکھائے، وہ ملک کا بھلا نہیں کر سکتی ہے۔ وزیر اعظم آسام میں اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے سلسلے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کارکنوں کے ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعت پر آسام میں صرف خوشامد اور ووٹ بینک کی سیاست کرنے اور ترقی و امن کو نظر انداز کرنے کا الزام بھی لگایا۔وزیر اعظم نے بی جے پی کارکنوں کو پلوامہ حملے کی برسی کی یاد دلاتے ہوئے شہید جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پلوامہ کے بعد ہندوستان نے جو کارروائی کی، اسے دنیا نے دیکھا ہے اور کچھ لوگ آج بھی اس کارروائی سے خوف زدہ ہیں۔انہوں نے اسی تناظر میں قومی مفاد کے حوالے سے کانگریس کی مبینہ کمزوریوں کا ذکر کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا کانگریس میں ملک کے مفاد میں ایسے فیصلے لینے کی صلاحیت ہے؟ انہوں نے کہا کہ کانگریس ایسے مواقع پر زیادہ سے زیادہ صرف بیانات دے سکتی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس نے ملک کی سلامتی کو ترجیح نہیں دی اور اس کے دور میں پورا نارتھ ایسٹ خوف اور عدم تحفظ کے سائے میں رہا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے دفاعی خریداری میں بھی گھوٹالے کیے۔ وزیر اعظم نے سرحدی علاقوں میں سڑکوں، سرنگوں، ہوائی پٹیوں اور دیگر سہولیات کی تعمیر کے لیے اپنی حکومت کی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کو مسلسل مضبوط بنا رہا ہے۔
وزیرِاعظم آسام میں آج کئی منصوبوں کا کرینگے آغاز
یواین آئی
نئی دہلی // وزیراعظم نریندر مودی آج آسام کے دورے پر رہیں گے۔ جہاں وہ 5,450 کروڑ روپے سے زیادہ کے بنیادی ڈھانچے کے کئی منصوبوں کا افتتاح کریں گے۔ وزیرِاعظم تقریباً صبح ساڑھے دس بجے ڈبروگڑھ کے موران بائی پاس پر واقع ایمرجنسی لینڈنگ سہولت پہنچیں گے جہاں لڑاکا طیاروں، ٹرانسپورٹ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی فضائی نمائش پیش کی جائے گی۔ یہ شمال مشرق کی پہلی ایسی سہولت ہے جسے ہندوستانی فضائیہ کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے تاکہ ہنگامی حالات میں فوجی اور شہری دونوں طرح کے طیاروں کی لینڈنگ اور ٹیک آف ممکن ہو سکے۔ اسے خطے کے لیے نہایت اہم اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دوہرے استعمال کا یہ بنیادی ڈھانچہ قدرتی آفات اور اسٹریٹیجک ضروریات کے دوران بچاؤ اور راحتی کارروائیوں میں تیزی لائے گا۔ یہ سہولت 40 ٹن تک کے لڑاکا طیاروں اور 74 ٹن تک کے ٹرانسپورٹ طیاروں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دوپہر تقریباً ایک بجے وزیرِاعظم، کمار بھاسکر ورما سیتو کا دورہ کریں گے جو برہم پتر پر تقریباً 3,030 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ چھ لین پر مشتمل پل گوہاٹی کو شمالی گوہاٹی سے جوڑتا ہے۔ اس پل سے گوہاٹی اور شمالی گوہاٹی کے درمیان سفر میں لگنے والا وقت تقریباً سات منٹ رہ جائے گا۔ زلزلے کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں بیس آئیسولیشن ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے اور پل کی نگرانی کے لیے جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب کیا گیا ہے۔ بعد ازاں دوپہر تقریباً 1.30 بجے وزیرِاعظم لاچت گھاٹ، گوہاٹی میں مختلف منصوبوں کا افتتاح اور آغاز کریں گے۔ ان میں کامروپ ضلع کے امین گاؤں میں شمال مشرقی خطے کے لیے نیشنل ڈیٹا سینٹر بھی شامل ہے۔ جدید ڈیٹا سینٹر سرکاری محکموں کی اہم ڈیجیٹل ایپلی کیشنز کی میزبانی کرے گا اور دیگر قومی ڈیٹا سینٹروں کے لیے ڈیزاسٹر ریکوری سینٹر کے طور پر بھی کام کرے گا، جس سے ڈیجیٹل انڈیا وڑن کو تقویت ملے گی۔ وزیرِاعظم اس موقع پر انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ گوہاٹی کا بھی افتتاح کریں گے، جس سے خطے میں اعلیٰ اور مینجمنٹ پر مبنی تعلیم کو فروغ ملے گا۔ دورے کے دوران وزیرِاعظم پی ایم ای-بس سیوا اسکیم کے تحت چار شہروں-گوہاٹی (100 بسیں)، ناگپور (50)، بھاؤ نگر (50) اور چندی گڑھ (25)-میں 225 الیکٹرک بسوں کو جھنڈی دکھا کر روانہ کریں گے۔ اس اقدام سے 50 لاکھ سے زائد شہریوں کو صاف، سستی اور قابلِ اعتماد عوامی ٹرانسپورٹ کی سہولت ملنے کی امید ہے، جس سے شہری نقل و حمل اور معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی۔ یہ دورہ شمال مشرقی خطے میں رابطہ، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ، تعلیم اور پائیدار ٹرانسپورٹ کو مضبوط بنانے پر مرکز کی مسلسل توجہ کی نشاندہی کرتا ہے۔