وادی ٔ کشمیر میں کھانے پینے کی تقریباً تمام چیزوں میں ملاوٹ اب لوگوں کی صحت کے لئے ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔دودھ اور دودھ سے بنی دوسری مصنوعات نہ صرف ملک بھر میں غذائیت کا اہم ذریعہ ہیںبلکہ ثقافت، روایت اور اقتصادی زندگی کا بھی لازمی حصہ ہیں۔لیکن ستم ظریفی یہ ہےکہ اب ملاوٹ شدہ دودھ، جعلی پنیر اور دیگر بہت ساری ملاوٹ شدہ چیزوںکی تجارت دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔ملاوٹ کا مسئلہ اب صرف صحت تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ خوراک کے نظام، صارفین کے حقوق اور قومی غذائی تحفظ کے لئے ایک بڑے خطرے کے طور پر اُبھررہا ہے۔اب ملک کے مختلف حصوں سے ملاوٹ شدہ دودھ،گھی ، پنیر،شہد ، کھوئے وغیرہ کی جو خبریں سامنے آچکی ہیں،اُس نے عوام الناس کوتشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ ملاوٹ کے بڑھتےہوئے رجحان نے ایک ایسے منظم جرم کی شکل اختیار کرلی ہے، جس میں غیر قانونی ڈیری یونٹس کا صریحاً غلط استعمال، جعلی برانڈنگ اور کمزور نگرانی کے نظام شامل ہیں۔
جس کے نتیجے میں عام صارفین انجانے میں زہر کھارہے ہیں،جس سے اُن کی صحت پر براہِ راست مہلک اثرات پڑرہے ہیں۔ ملاوٹ شدہ کھانے پینے کی غذائوں کا استعمال بچوں، بوڑھوں اور حاملہ خواتین کے لئے سب سے زیادہ خطرناک بن چکا ہے۔ ان مصنوعات کا طویل مدتی استعمال سنگین بیماریوں کا باعث بن رہا ہے، جیسے پیٹ کی بیماریاں، گردے اور جگر کا نقصان، ہارمونل عدم توازن اور یہاں تک کہ کینسر بھی ہورہا ہے۔ یہ صورتحال صحت عامہ کے نظام پر اضافی بوجھ ڈالتی ہے اور ملک کی انسانی قوت کو کمزور کررہی ہے۔چنانچہ 2024-25میں ملک کی ایک ریاست ِپنجاب میں جانچ کی گئی دودھ کی مصنوعات میں سے بھی تقریباً 47 فیصداشیاء معیار پر پورا نہیں اُتریں،جس سے یہ بات اُبھر آئی ہے کہ پنیر میں نشاستہ اور سوکروز جیسی ملاوٹ واضح کرتی ہے کہ یہ سلسلہ چھوٹے پیمانے پر نہیں بلکہ صنعتی پیمانے پرجاری و ساری ہے،گویا ملاوٹ، غلط برانڈنگ اور صارفین کے ساتھ دھوکہ ایک سنگین مسئلہ بن گیا ہے۔ اسی طرح جعلی لیبلز، جعلی سرٹیفیکیشنز اور گمراہ کُن دعوے، صارفین کے لئے جانی و مالی طورپرنقصان دہ ثابت ہورہے ہیں۔جبکہ کچھ ماہ قبل ہی میں فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا( ایف ایس ایس اے آئی) نے بھی واضح کیا ہے کہ غلط برانڈنگ بھی فوڈ سیفٹی کی خلاف ورزی ہے اور اس پر سخت کارروائی کی جائے گی۔متعلقہ اتھارٹی کے بقول تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ دودھ اور دودھ کی مصنوعات میں ملاوٹ کی نشاندہی کرنے کے لئےایک جامع، بروقت اور ہدفی مہم شروع کر کے مقررہ وقت کے اندر کاروائیوں کی رپورٹس پیش کریں اور جوفوڈ سیفٹی افسران اس مہم میں مرکزی کردار ادا کررہے ہیں، انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دودھ، پنیر اور دودھ سے بنی دوسری چیزوں کے نمونے باقاعدگی سے جمع کریں، مشکوک یونٹس پر چھاپے ماریں اور لیبارٹری ٹیسٹنگ کو یقینی بنائیں۔ساتھ ہی اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا ہے کہ معائنے محض کاغذی کارروائی کے طورپر نہیں بلکہ ٹھوس اور نتائج پر مبنی ہوں
۔دودھ، پنیر اور کھویا کے نمونے فوڈ بزنس آپریٹرز کے احاطے سے جمع کرکے جانچ کے لئے تسلیم شدہ لیبارٹریوں کو بھیجے جائیں، معیار پر پورا نہ اُترنے والی مصنوعات کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ فوڈ سیفٹی کے عالمی معیارات کے ساتھ ہم آہنگی، ٹریس ایبلٹی، ریئل ٹائم مانیٹرنگ اور دودھ اور ڈیری مصنوعات کے لئے سخت سزائیں پہلے سے ہی موجود ہیں۔ جبکہ ایف ایس ایس اے آئی مہم کو ملک میں خوراک کی حفاظت کے عالمی معیارات کے مطابق لانے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا جارہاہے۔پالیسی کی کامیابی کی کلید، صارفین کی آگاہی اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ حکومتی کارروائی۔ ظاہر ہے کہ جب تک صارفین خالص مصنوعات کا مطالبہ نہیںکرتے اور مشتبہ مصنوعات کی اطلاع نہیں دیتے ہیں، ملاوٹ کو مکمل طور پر روکنا مشکل ہوگا۔ فوڈ سیفٹی سے لے کر نیشنل ٹرسٹ تک، ملاوٹ شدہ دودھ، پنیر اور دیگر غذائی اشیاء کے خلاف ایف ایس ایس اے آئی کی خصوصی مہم محض ایک انتظامی کارروائی نہیں ہےبلکہ صحت عامہ، صارفین کے حقوق اور قومی فوڈ ٹرسٹ کے تحفظ کے لئے ایک اہم کوشش ہے۔ اگر ایمانداری، شفافیت اور مستقل مزاجی کے ساتھ اس مہم پر کام کیا جائے گا تو اس سے نہ صرف ملاوٹ کا روکتھام ہوگا بلکہ غذائی نظام کو محفوظ اور قابل اعتماد بنایا جائے گا۔