ریزرویشن نسلی شناخت پر مبنی ہے، نہ کہ علاقائی بنیادوں پر:وزیر سکینہ ایتو
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//جموں سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے منتخب رکن اسمبلی اروند گپتاکی جانب سے جموں کیلئے شیڈولڈ ٹرائب یعنی درجہ فہرست قبائلII درجہ دئیے جانے کے مطالبہ پر جمعرات کو اسمبلی میں خاصی گرما گرمی دیکھنے کو ملی۔ یہ درجہ فی الحال صوبہ جموں کے پیر پنچال خطے اور شمالی کشمیر کے اُوڑی علاقے کے پہاڑی بولنے والے افراد کے لیے مخصوص ہے۔جموں ساوتھ آر ایس پورہ سے بی جے پی کے رکن اسمبلی نریندر سنگھ نے ایوان میں ضمنی سوال کے دوران یہ معاملہ اٹھایا کہ راجوری اور پونچھ اضلاع کے پہاڑی افراد کو یونین ٹیریٹری کے دیگر حصوں میں شیڈولڈ ٹرائب یعنی درجہ فہرست قبائل2کا فائدہ نہیں مل رہا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جموں ویسٹ کے رکن اسمبلی اروند گپتا نے ایک سال قبل اس درجہ کے لئے درخواست دی تھی، لیکن اب تک انہیں کوئی واضح جواب نہیں ملا۔جموں کے میدانی علاقوں میں مقیم پاکستانی پناہ گزینوں سمیت اہل کمیونٹی کے ارکان کو پہاڑی کوٹہ کے تحت ریزرویشن فوائد میں توسیع کی حمایت میں بی جے پی کے دو قانون سازوں نے جمعرات کو جموں و کشمیر اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔نریندر سنگھ رینا اور اروند گپتا نے ایوان سے واک آؤٹ کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہاڑی کوٹہ کے تحت جموں اور دیگر میدانی علاقوں میں رہنے والے کمیونٹی ممبروں کو ریزرویشن کے فوائد میں توسیع کے بارے میں حکومت کے جواب سے مطمئن نہیں ہیں۔اس معاملے نے بی جے پی کے اراکین اور نیشنل کانفرنس کے ایم ایل اے اعجاز جان کے درمیان گرما گرم تبادلہ بھی شروع کر دیا، جنہوں نے پہاڑی پٹی سے باہر رہنے والے پہاڑی خاندانوں کو ریزرویشن کے فوائد میں توسیع کی سختی سے مخالفت کی۔ نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی اعجاز جان نے مداخلت کرتے ہوئے بی جے پی اراکین سے سوال کیا کہ وہ خود کو ڈوگرہ مانتے ہیں یا پہاڑی؟
ان کا کہنا تھا کہ یہ درجہ اْن پہاڑی لوگوں کے لیے ہے جو چراگاہوں میں رہتے، مویشی پالتے اور زمینی مشکلات جھیلتے ہیں۔بحث کے دوران اروند گپتا اور نریندر سنگھ رائنا اپنی نشستوں سے اٹھ کر ایوان کے وسط میں آگئے، تاہم اسپیکر نے انہیں ہدایت دی کہ اگر وہ اپنی بات کہنا چاہتے یا اعتراض کرنا چاہتے ہیں تو اپنی نشستوں پر واپس جائیں۔سماجی بہبود، صحت اور تعلیم کی وزیر سکینہ ایتو نے حکومت کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ شیڈولڈ ٹرائب یعنی درجہ فہرست قبائل2 درجہ کے لیے باقاعدہ معیار ہے اور اس کے لیے رہنما اصول وضع کیے گئے ہیں، اور درخواست گزار کا متعلقہ علاقے کا مستقل باشندہ ہونا ضروری ہے۔نریندر سنگھ رینا کے ذریعہ اٹھائے گئے موضوع پر اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے، سماجی بہبود کی وزیر سکینہ ایتو نے کہا کہ شیڈولڈ ٹرائبٰٰII ( ST-II) کے فوائد میں توسیع، پہاڑی بولنے والے لوگوں کو دوسروں کے درمیان شامل کرنا، نسلی شناخت پر مبنی ہے نہ کہ علاقائی بنیادوں پر۔انہوںنے کہاکہ شیڈولڈ ٹرائب1(ST-1) ریزرویشن (گوجروں اور بکروالوں کے لیے) جموں وکشمیرکے پورے یونین ٹیریٹری میں یکساں طور پر نافذ ہے۔ شیڈولڈ ٹرائب(ST-II) زمرہ کے تحت ریزرویشن علاقے کی بنیاد پر یا علاقے کے لحاظ سے نہیں ہے بلکہ مختلف گروپوں کو پہاڑی نسل کی بنیاد پر دیا جاتا ہے ۔اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ آیا حکومت جموں میں مقیم پہاڑی نسلی گروہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو شیڈولڈ ٹرائب(ST-II) ریزرویشن فوائد میں توسیع دینا چاہتی ہے تاکہ مساوات اور عدم امتیاز کے آئینی اصولوں کو برقرار رکھا جا سکے۔ وزیر نے کہا کہ یہ پالیسی مساوات، انصاف اور عدم امتیاز کے آئینی اصولوں کے مطابق ہے۔ حکومتی جواب پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی کے دونوں اراکین نے احتجاجاً ایوان سے واک آوٹ کیا۔نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے، نریندر سنگھ رائنا نے حکومت کے موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر شیڈولڈ ٹرائب (ST-1) کے ممبران ریزرویشن کے فوائد کے حقدار ہیں چاہے وہ کہیں بھی رہتے ہوں تو پہاڑی بولنے والے لوگوں پر بھی یہی اصول لاگو ہونا چاہیے۔انہوں نے دلیل دی کہ جغرافیائی رقبہ کو فوائد کی توسیع کا معیار نہیں بنایا جانا چاہیے۔
ایس ٹی۔I ریزرویشن یکساں طور پر نافذ العمل :حکومت
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//حکومت نے ایوان کو آگاہ کیا کہ شیڈولڈ ٹرائب (ایس ٹی)۔I ریزرویشن جموں و کشمیر میں یکساں طور پر نافذ العمل ہے۔وزیر برائے سماجی بہبود سکینہ اِیتو نے یہ بات ایوان میں رکُن اسمبلی ڈاکٹر نریندر سنگھ رینہ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی ۔ وزیرسماجی بہبود نے بتایا کہ شیڈولڈ ٹرائب۔II زُمرے کے تحت ریزرویشن کسی خطے یا مخصوص علاقے کی بنیاد پر نہیں دیا جاتا بلکہ یہ پہاڑی نسل سے تعلق رکھنے والے مختلف گروہوں کو دیا گیا ہے جیسا کہ2024کے ایس او 176میں درج ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ پہاڑی نسلی گروہ کو ایس ٹی۔II ریزرویشن کے فوائد کی توسیع ان کی نسلی، ثقافتی اور لسانی شناخت کی بنیاد پر کی گئی ہے نہ کہ علاقائی بنیاد پر اور اِس طرح یہ آئینی اصولوں یعنی مساوات، اِنصاف اور عدم امتیاز کے عین مطابق ہے۔اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ کوئی علیحدہ جائزہ نہیں لیا گیا کیوں کہ شمولیت نسلی شناخت کی بنیاد پر کی گئی ہے نہ کہ علاقائی تفریق کی بنیاد پر۔اِس ضمن میں ارکانِ اسمبلی اعجاز احمد جان اور ڈاکٹر رمیشور سنگھ نے ضمنی سوالات اُٹھائے۔
ریزرویشن سرٹیفکیٹس کی اجرائی میں واضح علاقائی عدم توازن
۔86فیصد جموں، محض 14فیصد کشمیر میں جاری:سرکاری اعداد و شمار
۔86فیصد جموں، محض 14فیصد کشمیر میں جاری:سرکاری اعداد و شمار
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پیش کیے گئے تازہ سرکاری اعداد و شمار سے ریزرویشن سرٹیفکیٹس کی اجرائی میں شدید علاقائی عدم توازن کا انکشاف ہوا ہے، جس کے مطابق مختلف محفوظ زمروں کے تحت جاری کیے گئے سرٹیفکیٹس کی بھاری اکثریت جموں خطے میں دی گئی، جبکہ کشمیر کا حصہ انتہائی محدود رہا۔ یہ تفصیلات پیپلز کانفرنس کے صدر اور رکنِ اسمبلی سجاد غنی لون کی جانب سے پیش کی گئی کٹ موشن کے جواب میں حکومت نے ایوان میں پیش کیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سات محفوظ زمروں کے تحت مجموعی طور پر تقریباً 11.81 لاکھ ریزرویشن سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، جن میں سے تقریباً 86 فیصد جموں خطے میں جبکہ صرف 14 فیصد کشمیر میں اجرا ہوئے۔اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ فرق درج فہرست قبائل (ایس ٹی) اور درج فہرست ذات (ایس سی) کے زمروں میں دیکھا گیا۔ ایس ٹی زمرے کے تحت جاری کیے گئے 7,49,970 سرٹیفکیٹس میں سے 6,93,781 (92.5 فیصد) جموں جبکہ صرف 56,189 (7.4 فیصد) کشمیر میں جاری کیے گئے۔درج فہرست ذات کے معاملے میں عدم توازن مزید نمایاں رہا۔ مجموعی طور پر 1,41,419 ایس سی سرٹیفکیٹس میں سے 1,39,664 یعنی 98 فیصد سے زائد جموں میں جبکہ محض 1,755 سرٹیفکیٹس (1.24 فیصد) کشمیر میں جاری ہوئے۔ حکومت نے وضاحت کی کہ ایس سی آبادی کی اکثریت جموں خطے میں آباد ہے اور ایس سی کے لیے مخصوص تمام سات اسمبلی حلقے بھی وہیں واقع ہیں۔ریزرود بیک ورڈ ایریا (آر بی اے) زمرے میں تاہم صورتحال نسبتاً متوازن رہی، جہاں 1,00,848 سرٹیفکیٹس میں سے 50,982 جموں اور 49,866 کشمیر میں جاری کیے گئے۔دیگر زمروں میں ایک بار پھر جموں کا غلبہ دکھائی دیا۔ ایکچول لائن آف کنٹرول (اے ایل سی) کے تحت جاری کیے گئے 7,192 سرٹیفکیٹس میں سے 6,732 (93.6 فیصد) جموں جبکہ صرف 460 (6.3 فیصد) کشمیر میں دیے گئے۔ اسی طرح انٹرنیشنل بارڈر (آئی بی) کے تمام 6,732 سرٹیفکیٹس صرف جموں خطے میں ہی جاری ہوئے۔او بی سی زمرے میں 1,30,976 سرٹیفکیٹس میں سے 78,324 (59.8 فیصد) جموں اور 52,652 (40.2 فیصد) کشمیر میں جاری کیے گئے۔ اقتصادی طور پر کمزور طبقات (ای ڈبلیو ایس) کے تحت بھی واضح فرق سامنے آیا، جہاں مجموعی طور پر 47,235 سرٹیفکیٹس میں سے 43,136 (91.3 فیصد) جموں جبکہ صرف 4,099 (8.6 فیصد) کشمیر میں جاری ہوئے۔یو این ایس کے مطابق اعداد و شمار کے انکشاف کے بعد ایوان میں بحث چھڑ گئی۔ سجاد غنی لون نے ان اعداد و شمار کو مواقع اور فوائد کی تقسیم میں گہرے علاقائی عدم توازن کا ثبوت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جو باتیں پہلے محض تاثر یا سیاسی بیان سمجھی جاتی تھیں، اب وہ سرکاری اور دستاویزی حقیقت بن چکی ہیں۔لون نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ریزرویشن پالیسیوں کے نفاذ اور ساخت کا از سر نو جائزہ لیا جائے اور ایسے اصلاحی اقدامات کیے جائیں جو دونوں خطوں کے درمیان پائے جانے والے عدم توازن کو دور کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت مداخلت نہ کی گئی تو روزگار اور فلاحی اسکیموں کے فوائد ایک ہی خطے تک محدود ہوتے چلے جائیں گے۔