یو این آئی
نئی دہلی// کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے منگل کے روز لوک سبھا اسپیکر اوم برلا پر ایوان کی کارروائی چلانے میں جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے لوک سبھا سکریٹریٹ میں ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا نوٹس پیش کیا۔لوک سبھا میں کانگریس کے چیف وہپ کے سریش نے لوک سبھا کے سکریٹری جنرل اتپل کمار سنگھ کو تحریک عدم اعتماد کا نوٹس پیش کیا، جس میں مسٹر اوم برلا کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس تحریک پر کانگریس کے 99 ارکان کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں ڈی ایم کے، سماج وادی پارٹی اور ترنمول کانگریس سمیت کل 118 ارکان نے دستخط کئے ہیں۔ جبکہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے دستخط نہیں ہیں۔سکریٹریٹ کے ذرائع نے مزید بتایا کہ مسٹر اوم برلا نے تحریک عدم اعتماد کے نوٹس کی جانچ کا عمل جلد شروع کرنے کو کہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اس وقت تک ایوان کی کارروائی کی صدارت نہیں کریں گے جب تک تحریک عدم اعتماد سے متعلق سارا معاملہ حل نہیں ہو جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق مسٹر اوم برلا نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا نوٹس دیا ہے اور اس معاملے کے حل ہونے تک ایوان کی کارروائی چلانا ان کے لیے اخلاقی طور پر نامناسب ہے۔ لوک سبھا کے اسپیکر کے خلاف اپوزیشن کی طرف سے داخل کردہ تحریک عدم اعتماد کے نوٹس میں لگائے گئے الزامات کی جانچ کی جائے گی۔ قواعد کے مطابق تفتیشی عمل کے بعد سکریٹریٹ اس نوٹس پر مزید کارروائی پر غور کرے گی۔ذرائع کے مطابق تحریک عدم اعتماد کا یہ نوٹس آرٹیکل 94(C) کے تحت مسٹر اوم برلا کو اپنے عہدے سے ہٹانے کے لیے دیا گیا ہے۔ ان پر ایوان کی کارروائی جانبدارانہ طور پر چلانے کا الزام ہے۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اسپیکر نے متعدد مواقع پر اپوزیشن رہنماؤں کو بولنے کی اجازت نہیں دی، جو پارلیمان میں ان کا بنیادی جمہوری حق ہے۔ اس میں خاص طور پر 2 فروری کا حوالہ دیا گیا ہے، جب صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کے دوران راہل گاندھی کو اپنی تقریر مکمل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ کوئی واحد واقعہ نہیں بلکہ قائد حزب اختلاف کو تقریباً ہمیشہ بولنے سے روکا جاتا ہے۔نوٹس میں 3 فروری کو بجٹ اجلاس کے پورے دورانیے کے لیے آٹھ اپوزیشن ارکان کی معطلی کو بھی ‘‘من مانی’’ قرار دیا گیا ہے، اور کہا گیا ہے کہ انہیں صرف اپنے جمہوری حقوق کے استعمال پر سزا دی گئی۔ اسی طرح 4 فروری کو ایک بی جے پی رکن کی جانب سے دو سابق وزرائے اعظم پر ذاتی اور قابل اعتراض حملے کا حوالہ بھی دیا گیا، جس پر اسپیکر کی جانب سے کوئی سرزنش نہیں کی گئی۔اپوزیشن نے اسپیکر کے اس بیان پر بھی سخت اعتراض کیا ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس ‘‘ٹھوس معلومات’’ ہیں کہ کانگریس کے کچھ ارکان وزیر اعظم نریندر مودی کی نشست کی طرف بڑھ سکتے ہیں اور کوئی ‘‘غیر متوقع حرکت’’ کر سکتے ہیں۔ اپوزیشن کے مطابق یہ الزامات بے بنیاد، توہین آمیز اور ایوان کے وقار کے منافی ہیں۔
کارروائی شروع ہونے کے ساتھ ہی ہنگامہ | لوک سبھاکی کارروائی مسلسل تعطل کے بعد ملتوی
عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//بجٹ اجلاس کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری کشیدگی کے بیچ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے منگل کے روز لوک سبھا کا ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کانگریس کی خواتین اراکین پارلیمان پر سخت الزامات عائد کیے ہیں۔ یہ ویڈیو 4 فروری کا بتایا جا رہا ہے، جس میں کانگریس کی خواتین ایم پیز کو ایوان کے اندر احتجاج کی تیاری کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، وہ مقام بھی شامل ہے جہاں وزیر اعظم نریندر مودی عام طور پر بیٹھتے ہیں۔کرن رجیجو نے سوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھاکہ “کانگریس پارٹی کو اپنے ارکان پارلیمان کے انتہائی توہین آمیز رویہ پر فخر ہے۔ اگر ہم نے بی جے پی کے ارکان کو نہ روکا ہوتا اور خواتین ایم پیز کو کانگریس اراکین سے آمنے سامنے آنے دیا جاتا تو صورتحال انتہائی سنگین ہو سکتی تھی۔ ہم پارلیمنٹ کے وقار اور تقدس کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہیں۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اپوزیشن کی خواتین ایم پیز ایک بینر کے ساتھ احتجاج کے لیے تیاری کررہی ہیں، جبکہ مرکزی وزیر اشونی ویشنو سمیت بی جے پی کے کئی سینئر ارکان انہیں اس مقام سے ہٹنے کی اپیل کرتے نظر آتے ہیں۔ بعد ازاں، وزیر اعظم کی تقریر سے کچھ دیر قبل ایوان کی کارروائی ملتوی کر دی گئی تھی۔بعد میں لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے وضاحت کی کہ انہوں نے خود وزیر اعظم سے کہا تھا کہ وہ اس اجلاس میں شرکت نہ کریں، کیونکہ اپوزیشن ارکان کی جانب سے ان پر “حملے” کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ اس معاملے کے بعد بی جے پی کی کئی خواتین ارکان پارلیمان نے اپوزیشن کی خواتین ایم پیز کے خلاف پارلیمانی حدود پار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسپیکر کو باضابطہ شکایت دی۔کرن رجیجو نے اس شکایت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس ارکان نے نہ صرف ٹریژری بنچ کی حد عبور کی بلکہ وزیر اعظم کی نشست کے قریب جا کر پورے علاقے کو گھیرنے کی کوشش کی۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے رجیجو نے کہا کہ بی جے پی کی خواتین ایم پیز کانگریس ارکان کے رویے سے شدید طور پر مشتعل تھیں۔