یو این آئی
واشنگٹن// امریکہ میں بجلی کے ٹرانسفارمرز کی خراب حالت نے حکومت کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ کے نصف سے زیادہ بجلی ٹرانسفارمر ناکارہ ہو چکے ہیں۔امریکی محکمہ توانائی نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکہ میں اندازاً 8 کروڑ بجلی کے ٹرانسفارمرز استعمال میں ہیں۔ پاور سسٹم ٹیکنالوجی کی رپورٹ کے مطابق 55 فی صد ٹرانسفارمرز اپنی عمر پوری کرچکے ہیں، اس لیے اگر انہی ٹرانسفارمرز پر قابلِ تجدید توانائی چلائی گئی تو پورا بجلی نظام بیٹھ سکتا ہے اور امریکہ اندھیرے میں ڈوب جائے گا۔ٹرانسفارمر بحران کی وجہ سے قابل تجدید توانائی امریکہ کے لیے گلے کی ہڈی بن گئی ہے اور امریکہ پر اندھیرے میں ڈوب جانے کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ زیادہ تر ٹرانسفارمرز 33 سال پرانے ہیں، جب کہ ان کی زیادہ سے زیادہ عمر 35 سال ہوتی ہے، جب کہ تقریباً 20 فی صد ٹرانسفارمرز 25 سال سے زائد پرانے ہیں اور صرف 25 فی صد ٹرانسفارمرز ہی اس وقت قابلِ اعتماد حالت میں ہیں۔امریکی محکمہ توانائی نے بھی خبردار کیا ہے کہ پرانے ٹرانسفارمر کسی بھی وقت فیل ہوسکتے ہیں، ماحولیاتی تبدیلی کے باعث قابلِ تجدید توانائی پر زور دیا جا رہا تھا، مگر اب امریکہ نے مؤقف بدل لیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ قابلِ تجدید توانائی بلیک آؤٹ کا سبب بن سکتی ہے۔چینی تھنک ٹینک کے مطابق قابلِ تجدید توانائی سے خرابی کے امکانات 4 گنا بڑھ جاتے ہیں، اسی لیے امریکہ نے روایتی بجلی پیدا کرنے کے نظام کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔امریکہ زیادہ تر ٹرانسفارمرز یورپ اور میکسیکو سے درآمد کرتا ہے، 80 فی صد پاور ٹرانسفارمرز اور 50 فیصد ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمرز درآمداتی ہیں۔ جب کہ 2025 میں پاور ٹرانسفارمرز کی فراہمی میں 30 فی صد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی دوران ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمرز کی کمی 10 فیصد تک پہنچ گئی۔امریکی محکمہ توانائی کا کہنا تھا کہ ہمیں نہ صرف نئے ٹرانسفارمرز بنانے کی ضرورت ہے بلکہ ہمیں ان ٹرانسفارمرز کو تبدیل کرنے کی بھی ضرورت ہے جو پرانے ہورہے ہیں۔بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے مطابق پاور ٹرانسفارمرز کی تیاری تکنیکی طور پر نہایت پیچیدہ عمل ہے اور اس کے لیے جدید سہولیات درکار ہوتی ہیں۔ ایجنسی کے مطابق 2023 میں چین، جنوبی کوریا، ترکیہ اور اٹلی نے عالمی سطح پر پاور ٹرانسفارمرز کی مجموعی تجارت کا 50 فی صد حصہ حاصل کیا، جس میں سے صرف چین کا حصہ اس کا نصف تھا۔آئی ای اے کے مطابق امریکہ اور یورپ دونوں نے 2018 کے بعد سے پاور ٹرانسفارمرز کی درآمدی تجارت کی مالیت دو گنا سے بھی زیادہ کر لی ہے۔ امریکہ زیادہ تر ٹرانسفارمرز میکسیکو، یورپ اور جنوبی کوریا سے حاصل کرتا ہے، جب کہ چین اب یورپی یونین کی درآمدات کا 60 فی صد سے زائد حصہ فراہم کر رہا ہے۔