ایجنسیز
میگھالیہ//میگھالیہ کے مشرقی جینتیا ہلس ضلع میں غیر قانونی کوئلہ کانکنی کے دوران ہوئے دھماکہ کے 2 دنوں بعد جائے وقوع سے 2 مزید لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔ اس سے حادثہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 27 ہو گئی ہے۔ پولیس نے اس بارے میں جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ جمعرات کو امسنگٹ گائوں کے تھانگسکو علاقہ میں ہوئے دھماکہ والی جگہ پر کئی ایجنسیوں کے ذریعہ چلائی جا رہی تلاشی مہم کے دوران دونوں لاشیں برآمد کی گئیں۔ پولیس نے بتایا کہ کئی لوگ اب بھی لاپتہ ہیں اور تلاشی مہم فی الحال جاری ہے۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ وکاس کمار نے بتایا کہ مہلوکین کی شناخت کی جا رہی ہے۔پولیس سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ بی این ایس (بھارتیہ نیائے سنہیتا)، کان اور معدنیات (ڈیولپمنٹ و ریگولیشن) ایکٹ اور دھماکہ خیز مادہ ایکٹ کے التزامات کے تحت از خود نوٹس لیتے ہوئے کھلی ہریات پولیس تھانہ میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس حادثہ کے تعلق سے اب تک دو ملزمین، جلاپھیٹ پورڈْنگ گائوں کے 36 سالہ فورمے چرمانگ اور سْتنگا پوہویلانگ گائوں کے 42 سالہ شمیہی وار کو گرفتار کیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ امسنگٹ کے تھانگسکو علاقہ واقع کان میں دھماکہ کے بعد افسران کئی ایجنسیوں کی مدد سے بڑے پیمانے پر تلاشی اور بچائو مہم چلا رہے ہیں۔ موقع پر موجود ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ کئی لوگ اب بھی لاپتہ ہیں اور بچائو ٹیم تلاش میں مصروف ہے۔ اس درمیان میگھالیہ کے وزیر اعلیٰ کونراڈ سنگما نے کہا کہ حکومت ناجائز کوئلہ کانکنی میں شامل لوگوں کے تئیں کوئی نرمی نہیں دکھائے گی۔ ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ہوگی۔ سنگما نے یہ بھی کہا کہ انتظامیہ کو جانچ تیز کرنے اور جوابدہی یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔