ڈاکٹر فلک فیروز
گرمی جون کے جوبن پر تھی اور کلاس روم میں لڑکوں کے شور و گل کی آوازیں اپنے زوروں پر تھی ۔گویا لڑکوں نے آسمان سر پر اٹھایا تھا۔لڑکے ایک دوسرے سے لڑ پڑے تھے کسی نے کسی کا کان کھینچا ہوا تھا اور کسی کے ہاتھ میں کسی اور لڑکے کی گردن اٹک کی تھی ۔تمام لڑکے سفید شاٹ اور سیا پینٹ زیب تن کئےہوئے سکول کی وردی میں تھے ۔کچھ شرارتی لڑکوں نے باقی لڑکوں کی سفید شیٹوں پر اپنے سیاہ فلم سے سیاہی بھر دی تھی۔ کچھ نے اپنے من پسند الفاظ اور جملے شریف لڑکوں کی شوٹوں پر قلم بند کئے تھے، گویا لڑکوں کے شور و گل سے کلاس روم مچھلی بازار نظر ا رہا تھا۔ اسی شور کے درمیان ایک زوردار آواز گونجی اٹھی، بشیر صاحب آگئے بشیر صاحب آگئے۔ بشیر صاحب کی اپنی انفرادی اور دلچسپ انٹری نے سارے بچوں کو اپنی جانب متوجہ کیا ۔شور بالکل ختم ہوا ایسے جیسے کوئی سونامی آنے کی لہر کی کسی نے خبر دی ہو ۔ لڑکے بے ترتیب انداز میں بشیر صاحب کو دیکھ رہے تھے اور بشیر صاحب اپنی منفرد اور انوکھی نیز شائستہ نگاہوں سے لڑکوں کو تاک رہے تھے۔ نہ کوئی لڑکا بول رہا تھا اور نہیں بشیر صاحب کچھ کہہ رہے تھے ۔سما انتہائی دلچسپ اور دل لبھا تھا، بشیر صاحب نے اپنی دھواں دار اواز میں کہا کل جو سبق میں نے پڑھایا تھا کس کس کو یاد ہے۔ کس کی مجال تھی کہ وہ کہتا مجھے یاد ہے اور کس ماں کا شیر یہ کہنے کی جسارت کرتا کہ اس سے یاد نہیں ہے ۔بشیر صاحب نے کلاس میں موجود پہلے صف میں بیٹھے ہوئے بچوں کو ایک ایک کر کے اٹھایا، چند ہی بچے ان سوالات کا جواب دے پائے اور میں بھی ایک خوش نصیب ان میں تھا جو سوالات کا صحیح جواب دینے میں کامیاب ہو گیا ۔پہلی صف کے ختم ہونے کے بعد بشیر صاحب سوالوں کے جواب دینے والے طلبہ سے کہنے لگے، باقی کلاس کے تمام بچوں سے سوالات کے جواب استفسار کیجئے اور اس دوران کوئی چیٹنگ نہیں کرے گا کیونکہ میں آپ کے پیچھے پیچھے سن رہا ہوں اس عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سارے لڑکوں کو مار سہنی پڑی اور کم ہی بچے صحیح سلامت نکلے ۔انتہائی شورو غل مچا نے والے طلبہ اب اپنے ہاتھوں کی لکیروں پر لگی ہوئی سرخی کا حساب لگاتے ہوے کلاس روم سے باہر نکل رہے تھے ۔
آج یہ منظر پھر آنکھوں میں سمایا جب میں نے سوشل میڈیا کی ذرائع سے یہ خبر پڑی کہ محمد امین پرے المعروف بشیر صاحب فرزند پروفیسر محی الدین حاجنی قلیل علالت کے بعد وفات پا گئے ہیں۔ اللہ تعالی انہیں مغفرت عطا کرے اور لاواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔مرحوم محمد امین پرے المعروف بشیر صاحب علمی و ادبی علاقے حاجن ضلع بانڈی پورہ سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا جنم ایک علمی و ادبی وراثت کے گنے سائے میں ہوا ۔انہوں نے اپنی پوری زندگی میں علم کی قدر اور اس وراثت کی شان و شوکت کو بحال رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ پیشے سے استاد تھے اور ترقی کرتے ہوئے آگے بڑھ کر انچارج لیکچرر اردو کی حیثیت سے محکم سکول ایجوکیشن جموں و کشمیر سے سبکدوش ہوئے ۔انہوں نے علاقہ حاجن کے مختلف طلباء کو پڑھایا ہے جن میں سے بہت سارے طلبہ کامیابی کی بلندیوں کو چھونے میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔بندہ احقر بھی ان کی طالب علمی میں رہا ہے ۔نویں اور دسویں جماعت میں اردو کے مضمون میں ہمارے استاد مرحوم بشیر صاحب مقرر ہوئے تھے۔ انہیں اردو مضمون سے انتہائی دلچسپی تھی اردو مضمون کے ساتھ ساتھ ہسٹری یا تاریخ کا مضمون پڑھانا بھی جانتے تھے ۔تدریس کے معاملے میں موصوف انتہائی ذمہ دار اور احساس نظر اتے تھے طلبہ کو محنت کرانا انہیں اپنی ذمہ داری محسوس ہوتی تھی۔ پڑھائے گئے اسباق کا کلاس روم میں امتحان لینا یہ اپنی تدریسی طریق عمل کا بہترین ذریعہ تصور کرتے تھے۔ اردو مضمون میں شاعری پڑھانے کا کام بہت خوبصورت انداز میں کرتے تھے نثری ادب میں نثر کے متن کو سمجھنا اور طلبہ کو تمام متون سمجھانے اور سوالات کے صحیح صحیح جواب ذہن نشین کرانے کا کام انہیں بخوبی آتا تھا۔جو ہمیں امتحانات میں کام آتے تھے اور ان کے بتائے گئے اصول و ضوابط کے مطابق امتحانی پرچے حل کرنے سے طلبہ کو اچھے نمبرات ملتے تھے۔
مرحوم بشیر صاحب وقت کے پابند تھے خوبصورت لباس زیب تن کرنا ان کی مشہور عادت تھی سپورٹس جوتے پہننے کا انتخاب ان کا اپنا الگ انداز رکھتا تھا ۔شائستگی پاکی اور نفاست کے دلدادہ تھے ۔اپنے دوستوں کو اپنے طلبہ کو گفتگو کے عمل میں شامل کرنا انہیں بخوبی آتا تھا۔ مجھ سے جب بھی ملتے تو میری علمی کامیابیوں کے بارے میں سن کر انتہائی مسرت کا احساس کرتے تھے اور اکثر مجھے نصیحت کرتے تھے کہ آپ میں آگے بڑھنے کی بہترین صلاحیتیں موجود ہیں۔ اخبار کشمیر عظمی میں جب بھی میرے کالم شائع ہوتے تھے ،انہیں پڑھا کرتے تھے اور جہاں پر بھی انہیں کوئی کمی یا اچھائی اس میں نظر اتی تھی تو مجھے مطلع کرتے تھے ۔گزشتہ سال میں نے اپنی کتاب حسن انتخاب انہیں مرحمت فرمائی ،اس کو پڑھ کر مجھے مبارک بادی پیش کی اور یہ دعا دیتے رہے کہ اللہ زور قلم اور زیادہ عطا کرے۔
بشیر صاحب اپنی ملازمت کے دوران انتہائی ترقی پسند خیالات پیش کرتے تھے ،طلبہ کو ترقی پسند رہنا ترقی پسند زندگی گزارنے کی اکثر تلقین کرتے تھے ۔ ادارے کی تعمیر ترقی اور فلاح کے پیش نظر اکثر بیشتر مثبت خیالات پیش کرتے رہتے تھے۔آج ہم سے اس علمی و تدریسی پاسبانی کی روایت کرنے والے امین محترم المقام ہمارے استاد محمد امین پرے المعروف بشیر صاحب ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ مرحوم کو جواہر رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لاحقین کو صبر جمیل عطا کرے ۔آمین
(رابطہ۔ 8825001337)
[email protected]