یواین آئی
تل ابیب// اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے مصر کی عسکری صلاحیتوں میں اضافے کے بارے میں خبردار کیا اور کہا ہے کہ ان پر بغور نگاہ رکھی جانی چاہیے۔روزنامے ‘اسرائیل ہایوم’ کے مطابق نیتن یاہو نے مصر کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیتوں کے بارے میں خبردار کیا اور کہا ہے کہ میں نہیں جانتا صدر ٹرمپ کا ایران کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا ہو گا۔خبر کے مطابق نیتن یاہو نے جمعرات کو کنیسٹ کی خارجہ اور دفاعی کمیٹی کے بند کمرے کے اجلاس میں کہا ہے کہ مصری فوج اپنی قوت بڑھا رہی ہے اور اس کو نگرانی میں رکھنا ضروری ہے۔ مصر کے ساتھ ہمارے تعلقات ہیں لیکن ہمیں عسکری طاقت میں حد سے زیادہ اضافے کو روکنا ہوگا”۔خبر کے لئے اخبار کے استعمال کردہ ذرائع کے مطابق یہ بیانات اسرائیل۔مصر تعلقات کی حساسیت پر جاری مباحث کے دوران جاری کئے گئے ہیں۔مذکورہ تنبیہ کے باوجود، دسمبر میں اسرائیل اور مصر کے درمیان تقریباً 35 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کئے گئے اور نیتن یاہو نے اسے اسرائیل کی تاریخ کا سب سے بڑا معاہدہ قرار دیا تھا۔چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق، اسی کمیٹی اجلاس کے دوران نیتن یاہو نے ایران اوراسرائیل کی امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی کے معاملات پر بھی بات کی ہے۔رپورٹ کے مطابق، نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کی واشنگٹن کے ساتھ ہم آہنگی “ممکنہ حد تک اعلیٰ ترین سطح” پر ہے۔ تاہم انہوں نے ٹرمپ کے ایران سے متلعقہ حتمی موقف کیبارے میں غیر یقینی کیفیت کا اعتراف بھی کیا ہے۔اسمبلی ممبران سے خطاب میں نیتن یاہو نے کہاہے کہ ایرانی حکومتی نظام کے زوال کا سبب بننے والے انتہائی اہم مرحلے لئے موزوں حالات پیدا ہو رہے ہیں تاہم فی الحال یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ مرحلہ تہران حکومت کا تختہ اْلٹ سکے گا یا نہیں۔نیتن یاہو نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر اسراء?ل پر حملہ ہوا تو ہم، ایران کے خلاف “بہت بڑا اور سخت” حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس دفعہ کی کوئی بھی جوابی کاروائی گذشتہ جون کی کاروائی سے ہر لحاظ سے بڑی ہو گی۔واضح رہے کہ گذشتہ سال ان ازلی دشمنوں کے درمیان 12 روزہ جنگ ہوئی تھی۔جنگ ایک بھاری اسرائیلی حملے سے شروع ہوئی جس نے ایرانی عسکری اور جوہری تنصیبات کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں کو بھی نشانہ بنایا۔امریکہ نے بھی تین ایرانی جوہری مقامات پر حملے کر کے اسرائیلی کارروائیوں میں حصہ لیا اور اس کے بعد ٹرمپ کی طرف سے شروع کردہ ایک جنگ بندی نافذ العمل ہوگئی۔