وزیراعظم مودی کا اپنی رہائش گاہ پر ’پریکشا پر چرچہ‘ پروگرام سے خطاب
عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی //وزیر اعظم مودی نے جمعہ کو اپنی رہائش گاہ پر ’پریکشا پر چرچہ‘ کے پروگرام میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے بچوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امتحان کو بوجھ نہ سمجھیں، اسے آسانی سے لینا چاہئے۔ انہوں نے پرانے پرچوں سے تیاری کرنے کو پرانی عادت اور بیماری قرار دیا اور کہا کہ نئے دور میں اس کا کوئی جواز نہیں۔ یہ ایک طرح کی بیماری ہے، اس لیے بچوں کو اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے فطری انداز میں تیاری کرنی چاہیے اور امتحان کو دباؤ یا بوجھ نہیں بنانا چاہیے۔وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ طلباء کو امتحان کے لیے ذہنی دباؤ لینے اور زیادہ نمبر لینے کی دوڑ میں الجھنے کی بجائے زندگی کے مقصد کی کسوٹی پر خود کو پرکھتے ہوئے مسلسل محنت، صبر اور خود اعتمادی کے ساتھ کام کرنے پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ ایک بچے کے سوال پر کہ زندگی میں خواب دیکھنا ضروری ہے، وزیراعظم نے کہا کہ خواب نہ دیکھنا زندگی کے ساتھ سب سے بڑا جرم ہے۔ خواب ہی مقصد بناتے ہیں اور زندگی میں آگے بڑھنے کی تحریک دیتے ہیں۔ مشکل سے مشکل خواب کو حاصل کرنے کے لیے محنت ضروری ہے۔ بچوں کو خود اعتمادی بڑھانے کے لیے عظیم انسانوں کی سوانح حیات پڑھنی چاہیے۔نریندر مودی نے کہا کہ کسی بھی امتحان کے لیے خود اعتمادی ضروری ہے اور خود اعتمادی تب آتی ہے جب دل سے اپنے مضمون کو اپنے مقصد کے مطابق پڑھا جائے۔ امتحان کے وقت جلدبازی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ جلدبازی سے سب کچھ بگڑ جاتا ہے۔ اس کے بجائے خود اعتمادی اور مکمل سمجھ بوجھ کے ساتھ سوالات حل کریں۔ جلدبازی کی وجہ سے کئی بار جو سوالات آسان ہیں وہ بھی خراب ہو جاتے ہیں اور محنت ضائع ہو جاتی ہے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ اب وہ وقت نہیں رہا جب کہا جاتا تھا کہ کامیابی صرف انہی کو ملتی ہے جن کے پاس تمام سہولیات ہوں، بلکہ اب حالات بدل گئے ہیں۔ سب سے کم وسائل والے بچوں کو بھی بہترین نمبروں کے ساتھ امتحان میں کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس کی وجہ آزاد سوچ اور دستیاب سہولیات کے مطابق مطالعہ قرار دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے بچوں سے کہا کہ ہر چیز کا ایک طریقہ ہوتا ہے اور تجربے کی بنیاد پر اسے بدلا جا سکتا ہے۔ ’پریکشا پر چرچہ‘ کے پروگرام میں بھی انہوں نے تجربے کی بنیاد پر آہستہ آہستہ تبدیلیاں کیں۔ ہر بچے کو تجربے کی بنیاد پر اپنے کاموں میں بہتری لانی چاہیے۔ پروگرام کے بعد وزیراعظم مودی نے کہا کہ اب انہیں لگتا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں بچوں سے ’پریکشا پر چرچہ‘ کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کئی ریاستوں میں ان پروگراموں کا انعقاد کیا ہے اور انہیں لگتا ہے کہ دیگر ریاستوں میں بھی مزید پروگرام منعقد کئے جانے چاہئیں۔
سرحدی ناگالینڈ علاقائی اختیار
قیام کیلئے معاہدہ تاریخی: مودی
یو این آئی
نئی دہلی//وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو کہا کہ سرحدی ناگالینڈ علاقائی اختیار (FNTA) کے قیام کے لیے سہ فریقی معاہدہ “تاریخی” ہے اور یہ شمال مشرقی خطے میں امن اور جامع ترقی کے لیے حکومت کی غیر متزلزل وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔مودی نے ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں کہا، “یہ واقعی ایک تاریخی معاہدہ ہے، جو خاص طور پر مشرقی ناگالینڈ کی ترقی کو رفتار دے گا۔” مرکزی حکومت نے مشرقی ناگالینڈ کی مانگوں کو پورا کرنے کے لیے سرحدی ناگالینڈ علاقائی اختیار کے قیام کے لیے ناگالینڈ حکومت اور ایسٹرن ناگالینڈ پیپلز آرگنائزیشن کے ساتھ سہ فریقی معاہدے پر دستخط کیے۔وزیر اعظم نے کہا، “مجھے یقین ہے کہ اس سے عوام کے لیے نئے مواقع اور خوشحالی کے دروازے کھلیں گے۔ یہ شمال مشرق میں امن، ترقی اور جامع ترقی کے لیے ہماری غیر متزلزل وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔” معاہدے پر جمعرات کو ناگالینڈ کے وزیر اعلی نیفی ریو اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی موجودگی میں دستخط کیے گئے۔ایک سرکاری بیان میں کہا گیا، یہ معاہدہ ناگالینڈ کے چھ اضلاع — توئنسانگ، مون، کیپھیری، لانگلینگ، نوکلاک اور شاماتور — کے لیے سرحدی ناگالینڈ علاقائی اختیار (FNTA) کے قیام کا راستہ ہموار کرے گا اور 46 موضوعات کے سلسلے میں FNTA کو اختیارات منتقل کرے گا۔