عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے بدھ کے روز ایک بار پھر کہا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کی بات چیت کے دوران ہندوستان نے ملک کے خوراک اور زرعی شعبے کی اہم حساسیت کا مکمل طور پر خیال رکھا ہے۔ لوک سبھا میں ہند۔امریکہ تجارتی معاہدے سے متعلق دونوں ممالک کی جانب سے کی گئی اعلانات پر اپنے بیان میں گوئل نے کہا کہ ہندوستانی فریق اپنے حساس شعبوں، بالخصوص زراعت اور ڈیری سیکٹر کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے میں کامیاب رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فریق کے بھی کچھ ایسے شعبے ہیں جو ان کے نقطۂ نظر سے حساس ہیں۔قابل ذکر ہے کہ مسٹر گوئل نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں بھی کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ ہونے والے تجارتی معاہدے میں ہندوستان زرعی شعبے کی حساسیت کا خاص خیال رکھے گا اور اس حوالے سے ہونے والی بات چیت میں یہ بات واضح طور پر رکھی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں، صنعت کاروں، ہنر مند مزدوروں اور صنعت کے لیے نئے مواقع کھولے گا، جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کو آسان بنائے گا اور ہندوستان کے ’’میک اِن انڈیا فار دی ورلڈ، ڈیزائن اِن انڈیا فار دی ورلڈ اور انوویٹ اِن انڈیا فار دی ورلڈ‘‘ کے وژن کو حقیقت میں بدلنے میں مددگار ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس فروری میں وزیر اعظم نریندر مودی کے امریکہ کے دورے کے بعد سے ہندوستان اور امریکہ ایک متوازن اور باہمی طور پر فائدہ مند دو طرفہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے مقصد سے مسلسل بات چیت کرتے رہے ہیں۔ اسی تناظر میں دونوں فریقوں کے مذاکرات کاروں نے گزشتہ ایک سال کے دوران مختلف سطح پر تفصیلی اور گہری گفتگو کی ہے۔ دونوں جانب کے اہم اور متنوع مفادات کو دیکھتے ہوئے یہ فطری ہے کہ ہر فریق اپنی اپنی معیشت کے اہم اور حساس شعبوں کا تحفظ کرتے ہوئے بہترین ممکنہ نتائج کو یقینی بنانا چاہے گا۔وزیرِ تجارت نے کہا کہ دونوں فریق تجارتی معاہدے سے متعلق ضروری تکنیکی عمل اور کاغذی کارروائی کو مکمل کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے تاکہ اس کی مکمل صلاحیت سے جلد از جلد فائدہ اٹھایا جا سکے۔