عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں بدھ کے روز اس وقت شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جب نیشنل کانفرنس (این سی) اور کانگریس کے اراکینِ اسمبلی نے بی جے پی کے لیڈرِ اپوزیشن سنیل شرما کے پیر پنجال خطے سے متعلق ریمارکس پر ایوان میں احتجاج کیا اور ان سے معافی کا مطالبہ کیا۔ شور و غل کے باعث اسپیکر نے ایوان کی کارروائی 15 منٹ کے لیے ملتوی کر دی۔
ایوان کے اجلاس کے آغاز کے فوراً بعد این سی اراکین نے احتجاج شروع کیا اور الزام عائد کیا کہ سنیل شرما نے پیر پنجال کے حوالے سے غیر حساس اور توہین آمیز تبصرے کیے ہیں۔اراکین نے نعرے بازی کی اور بی جے پی لیڈر سے غیر مشروط معافی کا مطالبہ کیا، جس کے نتیجے میں ایوان کی کارروائی متاثر ہوئی اور اسپیکر کو اجلاس عارضی طور پر ملتوی کرنا پڑا۔
تنازعہ کی جڑ منگل کے روز دیے گئے سنیل شرما کے ان ریمارکس ہیں جو انہوں نے پیر پنجال خطے کو ڈویژن کا درجہ دینے کے مطالبے سے متعلق بعض اراکین کے سوال کے جواب میں دیے تھے۔ مبینہ طور پر شرما نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ پیر پنجال کیا ہے یا کہاں واقع ہے، جس پر خزانے کی بنچوں کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا۔راجوری کے ایم ایل اے افتخار احمد نے کہا کہ جب تک لیڈرِ اپوزیشن سنیلشرما اپنے ریمارکس پر معافی نہیں مانگتے، ایوان کو چلنے نہیں دیا جائے گا۔