عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کے چین سے متعلق ایک بیان پر ایوان میں شدید ہنگامے کے باعث کارروائی کئ مرتبہ ملتوی کرنی پڑی۔صدرِ جمہوریہ کے خطبے پر اظہارِ تشکر کی تحریک پر بحث کے دوران راہل گاندھی کے بیان پر ہنگامہ ہونے کے سبب ایک بار کارروائی ملتوی ہونے کے بعد سہ پہر تین بجے دوبارہ شروع ہوئی تو راہل گاندھی نے ایک بار پھر اپنا مؤقف رکھتے ہوئے کہا کہ وہ ہندستان اور چین کے تعلقات سے جڑا ایک بنیادی سوال اٹھا رہے ہیں۔ کیلاش پروت پر کیا ہوا، اس حوالے سے اپنی بات رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ قومی سلامتی سے متعلق معاملہ ہے۔ چین کی فوج کیلاش کی چوٹی کی جانب بڑھ رہی تھی۔ چین سے متعلق ان کے بار بار سوالات اٹھانے پر حکمراں جماعت کے کئی ارکان کھڑے ہو کر احتجاج کرنے لگے۔اسی دوران پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ راہل گاندھی پہلے کی باتوں کو ہی دہرا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ وہ اپنی سابقہ باتیں دوبارہ نہیں دہرائیں گے۔وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے راہل گاندھی کی تقریر کے دوران مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف جو باتیں کہہ رہے ہیں، ان کی بنیاد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ باتیں مکمل طور پر خیالی ہیں، اس لیے اس موضوع پر روک لگائی جانی چاہیے۔ حکمراں اور اپوزیشن ارکان کے درمیان نوک جھونک شروع ہو گئی۔ اس دوران اسپیکر اوم برلا نے قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے فیصلہ دیا کہ ایوان میں کسی اخبار کی کٹنگ، رسالے یا کسی کتاب میں شائع مواد کی بنیاد پر کوئی رکن اپنی بات نہیں رکھ سکتا۔ امت شاہ نے کہا کہ وزیردفاع صرف اتنا ہی پوچھ رہے ہیں کہ جس کتاب کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہ شائع ہی نہیں ہوئی، تو پھر اس کا ذکر کہاں سے کیا جا رہا ہے۔ امت شاہ نے کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف کو بولنے کا حق ہے، لیکن اسپیکر کی ہدایت کی پابندی کی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر کسی دوسرے کی لکھی باتوں کو نہیں بول سکتے۔ وہ ضوابط کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال نے کہا کہ قاعدہ 349 کے تحت حساس مسائل پر میگزین کے مضامین کا ایوان میں حوالہ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر کے رولز صرف اپوزیشن ارکان تک محدود نظر آتے ہیں۔ جب راہل گاندھی نے کہا کہ وہ کتاب کا تذکرہ نہیں کریں گے لیکن اس پر بحث تو کرسکتے ہیں، اس پر اسپیکر نے کہا کہ اس مسئلہ کا ذکر نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن لیڈر اسپیکر کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو یہ بھی نامناسب ہے اور انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔