عظمیٰ نیوزسروس
جموں//جموں و کشمیراسمبلی کا بجٹ اجلاس آج سے شروع ہوگا۔آج صبح دس بجے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اسمبلی کے سینٹرل ہال میں خطاب کریں گے ۔بجٹ سیشن اس بار غیر معمولی طور پر سیاسی ہلچل کا مرکز بنتا نظر آ رہا ہے، کیونکہ حکمراں اتحاد اور اپوزیشن دونوں نے اپنی اپنی حکمتِ عملی ترتیب دینے کے لیے سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ اس بار نہ صرف اپوزیشن، بلکہ حکمراں جماعت نیشنل کانفرنس بھی اتحادی جماعتوں کو ایک صف میں رکھنے کے لیے اپنے اجلاسوں کا سلسلہ بڑھا رہی ہے اور حالات بتاتے ہیں کہ یہ سیشن ہنگامہ خیز ہوگا۔ذرائع کے مطابق بجٹ سیشن کے پہلے ہی روز لیفٹیننٹ گورنر کے روایتی خطاب سے قبل این سی، کانگریس، سی پی آئی ایم اور دیگر حامی آزاد اراکین کا ایک مشترکہ اجلاس متوقع ہے، جس کی صدارت وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کریں گے۔ یہ اجلاس آج یعنی پیر کی شام طلب کیا گیا ہے تاکہ حکومت اپنی پالیسیوں کا یکساں دفاع پیش کرنے کے قابل ہو سکے۔ ایک سینئر این سی لیڈر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اتحادیوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی یقینی بنانا ضروری ہے، کیونکہ بجٹ سیشن صرف مالی حساب کتاب کا معاملہ نہیں بلکہ ایک سیاسی جنگ بھی ہے جس میں عوام پوری طرح سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔دوسری جانب، اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی بی جے پی نے بھی لیجسلیچر پارٹی کا اجلاس طلب کیا ہے جس میں بجٹ سے متعلق حکومت کے دعووں اور وعدوں کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے کہا’’ہم اس حکومت کو کوئی فری پاس نہیں دیں گے۔ پانچ برسوں سے روزگار، ترقی، بجلی، پانی اور سڑکوں کے وعدے صرف کاغذوں میں دکھائی دیے ہیں۔ بجٹ میں جو بھی اعلانات کیے جائیں گے ہم اس کے عملی پہلوؤں پر حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کریں گے‘‘۔کانگریس نے بھی اسی سلسلے میں اپنے ایم ایل ایز کا اجلاس آج یعنی پیرکی شام چھ بجے طلب کیا ہے۔ کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ کے سرکاری رہائش گاہ پر ہونے والا یہ اجلاس بجٹ سیشن کے اندر حکومت کے ترقیاتی ماڈل کو بے نقاب کرنے کے لیے حکمت عملی وضع کرے گا۔ کانگریس کے ایک سینئر رہنما نے بتایا کہ بجٹ کا مقصد محض اعداد و شمار دکھانا نہیں بلکہ عوام کو ریلیف پہنچانا ہوتا ہے۔ اس حکومت نے ہر شعبے کو بحران کی طرف دھکیلا ہے۔ ہم سیشن کے اندر ہر سوال اٹھائیں گے۔پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی بھی اپنی مستقل روایت کے مطابق آخری لمحات میں اجلاس منعقد کرنے جا رہی ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر کے مطابق ہم آج صبح اجلاس کریں گے، کیونکہ ہمارے کچھ اراکین سفر میں ہیں۔ لیکن یہ طے ہے کہ ہم اس بجٹ کو صرف کاغذی گھوم پھر سمجھ کر قبول نہیں کریں گے۔