اجلاس کی کامیابی کیلئے جماعتوں نے وقت، نظم و ضبط اور آئینی تقاضوں پر اتفاق کیا
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا پانچواں اجلاس 2فروری سے شروع ہونے جا رہا ہے، تاہم اس اہم اجلاس سے قبل ایوان میں ڈپٹی سپیکر کا عہدہ تاحال خالی ہونا سیاسی و آئینی حلقوں میں سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت کی جانب سے اس کلیدی آئینی منصب کو پُر نہ کیے جانے پر اپوزیشن کی جانب سے بھی تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کے تحت اسمبلی پر لازم ہے کہ وہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر دونوں کا انتخاب’’جلد از جلد‘‘کرے۔ اگرچہ نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنماعبدالرحیم راتھر کو 4نومبر 2024کواسمبلی کے پہلے اجلاس میں متفقہ طور پر سپیکر منتخب کیا گیا تھا، لیکن اس کے بعد سے ڈپٹی سپیکر کی کرسی خالی پڑی ہے۔اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے مطابق ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کا عمل سپیکر کی جانب سے مقررہ تاریخ پر ایوان میں تحریک پیش کیے جانے کے بعد شروع ہوتا ہے، تاہم ذرائع کے مطابق یہ عمل حکومت کی جانب سے شروع کیا جانا ضروری ہے، جو اب تک نہیں ہو سکا۔سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی اور اپوزیشن بنچوں کی جانب سے سیاسی ہچکچاہٹ اس تاخیر کی ایک بڑی وجہ ہے۔ جہاں نیشنل کانفرنس بھارتیہ جنتا پارٹی کو یہ عہدہ دینے پر آمادہ نظر نہیں آتی، وہیں بی جے پی نے بھی باضابطہ طور پر اس عہدے پر اپنا دعویٰ پیش نہیں کیا۔ نیشنل کانفرنس کے چیف وہپ مبارک گل سے اس معاملے پر رابطہ کرنے کی کوششیں بے نتیجہ رہیں۔ادھر بی جے پی کے جنرل سیکریٹری (تنظیم) اشوک کول نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کا عمل شروع کرنے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضروری نہیں کہ یہ عہدہ اپوزیشن کو دیا جائے، حکومت اپنے ہی کسی رکن کو بھی اس منصب پر فائز کر سکتی ہے۔دوسری جانب آنے والے بجٹ اجلاس کو مزید موثر بنانے کے لیے اسمبلی میں ڈبل شفٹوںکا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ سپیکر عبدالرحیم راتھر کی صدارت میں منعقدہ آل پارٹی کم بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے اجلاس کے دوران وقت کی کمی کا مسئلہ اٹھایا۔کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے قائدغلام احمد میر نے کہا کہ بیشتر اراکین نے مطالبہ کیا کہ اجلاس کا وقت صبح 10بجے سے شام 5بجے تک رکھا جائے تاکہ اراکین کو عوامی مسائل اٹھانے اور حکومت سے جواب طلب کرنے کا مناسب موقع مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وزیر کے پاس متعدد محکمے ہونے کی وجہ سے محدود وقت میں بجٹ گرانٹس پر بحث انصاف کے تقاضے پورے نہیں کر پاتی۔سی پی ایم کے سینئر رہنما اور پانچ مرتبہ کے رکن اسمبلی ایم وائی تاریگامی نے بھی پورے بجٹ اجلاس کو ڈبل شفٹوںمیں منعقد کرنے کی وکالت کی تاکہ حکومت کو موثر طور پر جواب دہ بنایا جا سکے۔سپیکر نے تمام جماعتوں کو یقین دلایا کہ بجٹ اجلاس کا بڑا حصہ ڈبل سٹنگز میں منعقد کیا جائے گا۔اجلاس کے دوران سپیکر نے تمام پارٹی قائدین سے اپیل کی کہ وہ وقفہ سوالات میں خلل نہ ڈالیں کیونکہ یہ عوامی مسائل کو ایوان میں اٹھانے کا اہم ذریعہ ہے۔ تمام جماعتوں نے وقفہ سوال کو پرامن طور پر چلانے کی یقین دہانی کرائی۔بجٹ اجلاس کا آغاز 2فروری کو لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے خطاب سے ہوگا، جبکہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ 6فروری کو اپنا دوسرا بجٹ پیش کریں گے۔ اجلاس 4اپریل تک جاری رہے گا، تاہم رمضان اور نوراتری کے پیش نظر 20فروری سے 26مارچ تک وقفہ دیا جائے گا۔ اس پورے اجلاس میں کل 22نشستیں ہوں گی، جن میں پہلی مدت میں 15اور دوسری مدت میں 7نشستیں شامل ہیں۔