ایجنسیز
تل ابیب//اسرائیلی فوج نے پہلی بار غزہ کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار تسلیم کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ جنگ کے دوران 71ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ یہ تعداد لاپتہ افراد، ملبے تلے دبے شہریوں اور بھوک و بیماری سے ہونے والی اموات کو شامل نہیں کرتی، جس سے اصل ہلاکتیں اس سے کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔اسرائیلی قابض افواج نے فلسطین کے غزہ میں قائم وزارتِ صحت کے اس اندازے کو تسلیم کر لیا ہے جس کے مطابق دو سالہ نسل کشی کے دوران تقریباً71 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ جمعرات کو اسرائیلی اخبار ہاآرتص کی رپورٹ کے مطابق، یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیلی فوج نے وزارتِ صحت کے ان اعداد و شمار کو قبول کیا ہے جنہیں وہ اس سے قبل ’’غیر معتبر‘‘ اور’’گمراہ کن‘‘ قرار دیتی رہی تھی۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، 7 اکتوبر2023 سے اسرائیلی نسل کشی کے آغاز کے بعد سے اب تک71 ہزار 766فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی قابض افواج نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ ان اعداد و شمار میں وہ افراد شامل نہیں ہیں جو لاپتہ ہیں اور ممکنہ طور پر ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ہاارتص کے مطابق:’’آئی ڈی ایف (اسرائیلی فوج) نے حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی وزارتِ صحت کے اس اندازے کو تسلیم کر لیا ہے کہ اسرائیل۔ غزہ جنگ کے دوران تقریباً71 ہزار فلسطینی مارے گئے، جبکہ یہ تعداد اْن لاپتہ افراد کو شامل نہیں کرتی جو ممکنہ طور پر ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ‘‘رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے:’’وزارت کی گنتی میں صرف وہ افراد شامل ہیں جو براہِ راست اسرائیلی فوجی حملوں میں مارے گئے، جبکہ بھوک یا بیماریوں سے مرنے والوں کو اس میں شامل نہیں کیا گیا۔ ‘‘یہ اعداد و شمار، جن کا جائزہ بین الاقوامی تنظیموں اور محققین نے لیا ہے، وسیع پیمانے پر قابلِ اعتماد سمجھے جاتے ہیں۔ کچھ مطالعات، جن میں جون2025 میں جاری ہونے والی ایک تحقیق بھی شامل ہے، کے مطابق اصل ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، اور گزشتہ سال کے آغاز تک تقریباً دو لاکھ پرتشدد اموات کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وزارتِ صحت کے اعداد و شمار محتاط اندازے پر مبنی ہیں اور ان میں وہ افراد شامل نہیں جن کی اموات بھوک یا محاصرے کے نتیجے میں پھیلنے والی بیماریوں سے ہوئیں۔