عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز ایک اہم اور دور رس فیصلہ سناتے ہوئے ملک بھر کی تمام ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ سرکاری اور نجی دونوں طرح کے اسکولوں میں طالبات کو مفت بائیو ڈی گریڈیبل سینیٹری پیڈ فراہم کریں۔جسٹس جے بی پردیوالا اور جسٹس آر مہادیون پر مشتمل بنچ نے واضح کیا کہ حیض سے متعلق صحت آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت فراہم کردہ حقِ زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ عدالت نے کہا: “حیض سے متعلق صحت کا حق، حقِ زندگی کا حصہ ہے اور ریاست اس سے دستبردار نہیں ہو سکتی۔
”سپریم کورٹ نے تمام ریاستوں کو ہدایت دی کہ وہ اسکولوں میں طالبات اور طلبا کے لیے علیحدہ بیت الخلاء کی سہولت یقینی بنائیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ تمام اسکولوں میں، خواہ وہ سرکاری ہوں یا نجی، معذور افراد کے لیے موزوں بیت الخلاء لازمی طور پر فراہم کیے جائیں۔عدالت نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر نجی اسکول ان ہدایات پر عمل نہیں کرتے تو ان کی منظوری منسوخ کی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے حکومتوں کو خبردار کیا کہ اگر سینیٹری پیڈ اور بیت الخلاء جیسی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں ناکامی رہی تو انہیں جواب دہ ٹھہرایا جائے گا۔سپریم کورٹ نے تمام اسکولوں کو، دیہی اور شہری علاقوں میں، مینسٹرول ہائیجین مینجمنٹ کارنرز قائم کرنے کا بھی حکم دیا تاکہ طالبات کو باوقار اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔یہ حکم جیا ٹھاکر کی جانب سے 10 دسمبر 2024 کو دائر کی گئی ایک عوامی مفاد کی عرضی پر سماعت کے دوران دیا گیا، جس میں مرکز کی ’اسکول جانے والی لڑکیوں کے لیے حیض سے متعلق حفظانِ صحت پالیسی‘ کو ملک بھر میں نافذ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔