عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر کے سیاسی قائدین نے اتراکھنڈ میں ایک کم عمر کشمیری شال فروش پر مبینہ ہجوم کے حملے کی شدید مذمت کی ہے، جس میں متاثرہ نوجوان کو متعدد فریکچر اور سنگین چوٹیں آئیں۔ کئی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ اس طرح کے واقعات بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں بڑھتے جا رہے ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔اطلاعات کے مطابق، کشمیر سے تعلق رکھنے والا ایک کم عمر شال فروش روزگار کے سلسلے میں اتراکھنڈ گیا تھا، جہاں مبینہ طور پر ایک گروہ نے اس پر تشدد کیا۔ اس واقعے کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا، جنہوں نے اسے تشویشناک اور بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی عکاسی قرار دیا۔
میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے جموں و کشمیر کانگریس کے صدر طارق حمید قرہ نے اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا۔انہوں نے کہایہ معاملہ نہایت تشویشناک ہے۔ ہم ایک منظم مہم دیکھ رہے ہیں جو دائیں بازو کے عناصر کی جانب سے چلائی جا رہی ہے۔ یہ صرف دو یا تین ریاستوں تک محدود نہیں۔ اگر آپ وقت کے ساتھ ایسے واقعات پر نظر ڈالیں تو یہ پورے ملک میں ہو رہے ہیں، جو دائیں بازو کی پالیسیوں اور ماحول کا نتیجہ ہیں۔
قرہ نے مزید الزام لگایا کہ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں ایسے واقعات زیادہ سامنے آ رہے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’شاید وہ سمجھتے ہیں کہ ایسے اقدامات سے ان کا مذہب پھلے پھولے گا یا قوم پرستی مضبوط ہوگی، لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جہاں جہاں بی جے پی کی حکومت ہے، وہاں ایسے واقعات کی تعداد زیادہ ہے۔‘‘
آزاد ایم ایل اے شبیر احمد کلے نے بھی اس مبینہ حملے کی مذمت کی اور اتراکھنڈ حکومت سے فوری اور سخت کارروائی کی اپیل کی۔انہوں نے کہا، ’’میں اس واقعے کی سخت مذمت کرتا ہوں اور اتراکھنڈ حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اسے سنجیدگی سے لے، اس کی روک تھام کرے، ذمہ داروں کی شناخت کر کے انہیں گرفتار کرے اور شرپسند عناصر کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی یقینی بنائے۔‘‘کلے نے اس طرح کے واقعات کے سماجی اثرات پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا، ’’نفرت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو برداشت نہیں کر پا رہے۔ اتراکھنڈ ہمارا پڑوسی صوبہ ہے اور میں کشمیر سمیت ملک کے دیگر حصوں کے عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ آئندہ ایسے واقعات سے باز رہیں۔
کانگریس کے ترجمان سریندر راجپوت نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں کشمیری نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا، ’’جہاں جہاں بی جے پی اقتدار میں ہے، وہاں کشمیری نوجوانوں کو مارا پیٹا جاتا ہے، گالیاں دی جاتی ہیں اور زبردستی نعرے لگوائے جاتے ہیں،انھوں نے کہا چاہے لکھنؤ ہو یا اتراکھنڈیا اوڑیسہ ہو لوگوں کو بنگلہ دیشی کہہ کر قتل کیا گیا۔ ایسے اقدامات ہندو-مسلم تقسیم کو ہوا دے کر شہریوں کی یکجہتی کو چیلنج کرتے ہیں۔‘‘انہوں نے مطالبہ کیا کہ ’’اس طرح کے حملوں میں ملوث افراد کو جیل بھیجا جائے اور تشدد روکنے میں ناکام حکومتوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔‘‘
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ترجمان زوہیب یوسف نے ان معاشی حالات کی نشاندہی کی جو کشمیری نوجوانوں کو ملک بھر میں روزگار کی تلاش پر مجبور کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکشمیر میں بے روزگاری کے باعث کشمیری شال فروش پورے ملک میں جاتے ہیں۔ آج اگر کوئی شال فروش کسی دوسری ریاست جاتا ہے تو اس سے ’وندے ماترم‘ یا ’جے شری رام‘ کے نعرے لگانے کو کہا جاتا ہے۔ اتراکھنڈ میں مبینہ طور پر ایک 17 سالہ لڑکے کے ساتھ یہی ہوا اور اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔‘‘یوسف نے کہا کہ ایسے واقعات کا معمول بن جانا نہایت خطرناک ہے۔انہوں نے کہا، ’’ایک خطرناک ذہنیت فروغ پا رہی ہے، جہاں کسی مسلمان کو مارنا، اس کی ویڈیو بنانا اور زبردستی نعرے لگوانا سیاسی شہرت کا آسان راستہ سمجھا جا رہا ہے۔ یہ بدقسمتی ہے اور یہ ہمارے ملک کی شناخت نہیں بننی چاہیے۔ جنہیں کبھی ’انتہاپسند عناصر‘ کہا جاتا تھا، آج انہیں مرکزی دھارے میں لایا جا رہا ہے۔‘‘
نیشنل کانفرنس کے ترجمان تنویر صادق نے کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے۔انہوں نے کہا، ’’جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ نے اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ سے بات کی ہے۔ مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ہم سخت کارروائی چاہتے ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی دوسری ریاست کا سفر کرتا ہے تو اس ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی حفاظت کرے، جیسے ہم یہاں کشمیر آنے والوں مہمانوں کا خیال رکھتے ہیں۔
تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے بی جے پی کے ترجمان پرتل شاہ دیو نے کہا کہ معاملہ سنگین ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔انہوں نے کہا، ’’یہ ایک نہایت تشویشناک واقعہ ہے۔ اتراکھنڈ حکومت پوری سنجیدگی سے اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ کیا ہوا اور کون ذمہ دار ہے۔ کسی کے خلاف بھی ایسے واقعات ناقابل قبول ہیں اور قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔‘‘بتایا جاتا ہے کہ جمعرات کو جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی مداخلت کے بعد اس حملے کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔