عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر حکومت نے غیرمکشوف اور دور دراز دیہات، بالخصوص سرحدی، پہاڑی اور پسماندہ علاقوں میں 4G موبائل کنیکٹیوٹی فراہم کرنے کے لیے 775 موبائل ٹاور سائٹس کے ورک آرڈرز جاری کر دیے ہیں۔ سکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی محکمہ، پیوش سنگلا نے بتایا کہ یہ منصوبہ مرکز کے یونیورسل سروس اوبلیگیشن فنڈ (USOF) کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، جس میں بی ایس این ایل عمل درآمدی ایجنسی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے منعقدہ میٹنگ میں اہم ڈیجیٹل انفراسٹرکچر منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جن میں 4G سیچوریشن پروجیکٹ، امینڈڈ بھارت نیٹ پروگرام (ABP)، 5G کی تیاری، کال بیفور یو ڈگ (CBuD) اور دیگر متعلقہ ٹیلی کام منصوبے شامل ہیں، جو جموں و کشمیر بھر میں نافذ کیے جا رہے ہیں۔
سکریٹری نے بتایا کہ تمام 775 شناخت شدہ مقامات پر زمین الاٹ کی جا چکی ہے، جبکہ پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے بیشتر سائٹس کو بجلی کی فراہمی بھی یقینی بنائی جا چکی ہے۔چیف سیکریٹری نے عمل درآمدی ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ تنصیب اور کمیشننگ کے کاموں میں مزید تیزی لائی جائے، بالخصوص ان 269 سائٹس پر جو 31 مارچ تک مکمل کیے جانے کا ہدف رکھتی ہیں، اور باقی مقامات کے لیے منظوری کے عمل کو بھی تیز کیا جائے۔
میٹنگ میں 1,421 سرحدی دیہات پر مشتمل بارڈر ولیج سیچوریشن کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، اور اس بات پر زور دیا گیا کہ اسٹریٹیجک طور پر اہم علاقوں میں بلا رکاوٹ کنیکٹیوٹی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ڈیجیٹل خلیج کو کم کیا جا سکے اور خدمات کی فراہمی بہتر بنائی جا سکے۔چیف سیکریٹری نے مختلف شعبوں میں جاری پیش رفت کا نوٹس لیتے ہوئے تمام منظور شدہ سائٹس کی بروقت تکمیل کے لیے عمل درآمد کی رفتار بڑھانے پر زور دیا۔ترجمان کے مطابق امینڈڈ بھارت نیٹ پروگرام (ABP) کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ یہ منصوبہ ڈیجیٹل بھارت ندھی سے مالی اعانت کے تحت اور محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن کی ملکیت میں نافذ کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد تمام گرام پنچایتوں کو آپٹیکل فائبر کنیکٹیوٹی فراہم کرنا ہے، جس میں کم از کم 98 فیصد نیٹ ورک اپ ٹائم یقینی بنایا جائے گا۔
اہم کامیابیوں میں پروجیکٹ عمل درآمدی ایجنسیوں کے ساتھ معاہدوں پر دستخط، جموں میں نیٹ ورک آپریشنز سینٹر کا قیام، مرکزی بلنگ نظام، اور سہ فریقی مفاہمتی یادداشت (MoU) کے ذریعے بین محکمانہ مسائل کا حل شامل ہے۔
5G کی تیاری کے حوالے سے آئی ٹی محکمہ نے رائٹ آف وے سہولت کاری، 5G اسٹریٹ فرنیچر میپنگ، اور صلاحیت سازی کے اقدامات کو اجاگر کیا، جن میں نومبر 2025 میں محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن کے اشتراک سے 5G اور رائٹ آف وے پر ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد بھی شامل ہے۔چیف سیکریٹری نے سمرِدھ گرام پنچایت پائلٹ پروجیکٹ کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا، جس کا مقصد دیہی اداروں کو ایف ٹی ٹی ایچ کنیکٹیوٹی کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنانا ہے۔ اس منصوبے کے تحت دیہی علاقوں میں 2,234 اسکولوں اور 1,138 پرائمری ہیلتھ سینٹروں کو شامل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نچلی سطح پر ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی بہتر طرزِ حکمرانی، تعلیم، صحت اور کاروباری مواقع کے فروغ کے لیے نہایت اہم ہے۔
جموں و کشمیر میں دور دراز علاقوں تک 4G نیٹ ورک کی فراہمی ، 775موبائل ٹاورز منظور