عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کہا کہ بھارت-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے کا آغاز ایک ’’پُرعزم، پُراعتماد اور آتم نربھر بھارت‘‘کی روح کی عکاسی کرتا ہے۔بجٹ اجلاس کے آغاز پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اکیسویں صدی کے اس رُبع میں بھارت دنیا کے لیے ’’امید کی کرن‘‘اور ’’کشش کا مرکز‘‘بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف عالمی توجہ ملک کی اقتصادی اور جمہوری طاقت پر بڑھتے اعتماد کی علامت ہے۔انہوں نے کہا،اکیسویں صدی کے اس رُبع کے آغاز پر بھارت/یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدہ اس بات کی جھلک پیش کرتا ہے کہ بھارت اور اس کے نوجوانوں کا مستقبل کتنا روشن ہے۔ یہ پُرعزم بھارت، پُراعتماد نوجوانوں اور آتم نربھر بھارت کے لیے آزاد تجارت ہے۔
وزیر اعظم مودی نے اعتماد ظاہر کیا کہ بھارتی صنعتکار اور مینوفیکچررز اس معاہدے سے پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھا کر عالمی سطح پر اپنی موجودگی کو مزید مضبوط کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ منڈیوں کے کھلنے کے ساتھ معیار (کوالٹی) پر خصوصی توجہ دینا نہایت ضروری ہے۔انہوں نے کہا،جب بھارت اور یورپ کے درمیان اتنا بڑا معاہدہ طے پاتا ہے تو ہمارے صنعتکاروں کو صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اب ہماری مصنوعات کم ٹیکس کے ساتھ فروخت ہوں گی۔ یہ معیار پر زور دینے کا موقع ہے۔ جب منڈی کھلتی ہے تو ہمیں بہترین معیار کے ساتھ اس میں داخل ہونا چاہیے۔ اگر ہم اعلیٰ معیار کے ساتھ جائیں گے تو یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کے دل جیت لیں گے، جس کا طویل مدتی اثر ہوگا۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ 27 ممالک کے ساتھ یہ معاہدہ بھارت کے کسانوں، نوجوانوں اور خدمات کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے بڑے مواقع پیدا کرے گا۔
انہوں نے کہا، مجھے پختہ یقین ہے کہ یہ ایک پُراعتماد، مسابقتی اور پیداواری بھارت کی سمت ایک بڑا قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس ’’وکست بھارت 2047‘‘کے عزم کی جانب ایک اہم قدم ہے اور مرکزی حکومت ‘ریفارم ایکسپریس’ کے ذریعے دیرینہ مسائل کے طویل مدتی حل پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
وزیر اعظم نے صدر جمہوریہ کے پارلیمنٹ سے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا،کل صدر جمہوریہ کا خطاب 140 کروڑ بھارتیوں کے اعتماد اور امنگوں کی عکاسی کرتا تھا۔ انہوں نے نہایت سادہ الفاظ میں بطور سربراہِ مملکت اپنے احساسات اور اراکین پارلیمنٹ سے اپنی توقعات کا اظہار کیا۔ مجھے یقین ہے کہ تمام اراکین پارلیمنٹ اسے سنجیدگی سے لیں گے۔انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی کا ایک چوتھائی حصہ گزر چکا ہے اور اب بھارت نے اگلے 25 برسوں کے ایک اہم سفر کا آغاز کیا ہے، جو’’وکست بھارت 2047‘‘کے وژن کو حقیقت بنانے کے لیے نہایت فیصلہ کن ہوگا۔
وزیر اعظم نے وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کا ذکر کرتے ہوئے کہا،وہ ملک کی پہلی وزیر خزانہ ہیں جو مسلسل نویں مرتبہ پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کر رہی ہیں۔ یہ بھارت کی پارلیمانی تاریخ میں ایک قابلِ فخر لمحہ ہے۔حکومت کے مجموعی طرزِ کار پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اگرچہ قوم کی توجہ بجٹ پر مرکوز ہے، لیکن حکومت کا بنیادی نظریہ ’’اصلاحات، کارکردگی اور تبدیلی‘‘ہی ہے۔انہوں نے کہا،ہم نے تیزی سے ’ریفارم ایکسپریس‘پر سوار ہو کر سفر شروع کیا ہے۔ میں تمام اراکین پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جن کی تعمیری شراکت سے اس ریفارم ایکسپریس کی رفتار تیز ہوئی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت طویل عرصے سے زیرِ التوا مسائل کے بجائے دیرپا حل نافذ کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے، جس سے پیش بینی پیدا ہوتی ہے اور عالمی اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے تمام فیصلے ترقی اور انسانی مرکزیت کو سامنے رکھ کر کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا،ہم ٹیکنالوجی کو اپنائیں گے، اس کی صلاحیت سے فائدہ اٹھائیں گے، لیکن انسانی مرکزیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ آئینی اقدار کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ہم ٹیکنالوجی کے ساتھ متوازن انداز میں آگے بڑھیں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ جمہوریت میں تنقید اور مختلف آرا فطری ہیں، لیکن اس بات پر وسیع اتفاق ہے کہ حکومت نے آخری شخص تک خدمات پہنچانے کو ترجیح دی ہے۔انہوں نے کہا،یہ صرف فائلوں کی نقل و حرکت نہیں بلکہ لوگوں کی زندگیوں تک پہنچنے کا عمل ہے۔ یہ روایت آئندہ بھی جاری رہے گی۔بھارت کی عالمی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آج بھارت کی جمہوریت اور آبادی دنیا کے لیے بڑی امید ہے۔انہوں نے کہا،جمہوریت کے اس مندر میں ہمیں عالمی برادری کو اپنی صلاحیتیں، جمہوری اقدار سے وابستگی اور جمہوری عمل کے ذریعے لیے گئے فیصلوں کی ساکھ دکھانے کا موقع ملتا ہے۔ دنیا اس کو تسلیم بھی کرتی ہے اور خوش آمدید بھی کہتی ہے۔
آخر میں وزیر اعظم نے کہا کہ آج بھارت تاخیر کے بجائے بروقت فیصلوں کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔انہوں نے اراکین پارلیمنٹ سے اپیل کیکہ یہ وقت مسائل پر افسوس کرنے کا نہیں بلکہ جرات مندانہ اور حل پر مبنی فیصلے کرنے کا ہے، تاکہ ہم ترقی کی رفتار کو تیز کریں اور آخری فرد تک فائدہ پہنچا سکیں۔
آتم نربھر بھارت اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے بھارت-یورپی یونین معاہدہ: مودی