واشنگٹن نے تہران کے خلاف فوجی مداخلت کو تاحال مسترد نہیں کیا
عظمیٰ نیوز سروس
پیرس// ایران کے صدر نے منگل کے روز خبردار کیا کہ اسلامی جمہوریہ کے خلاف امریکی “دھمکیاں” صرف عدم استحکام کا باعث بنیں گی۔ ایران کی یہ وارننگ اس وقت سامنے آئی ہے جب طیارہ بردار بحری جہاز کی سربراہی میں امریکی بحری بیڑے نے مشرق وسطی کے پانیوں میں پوزیشن سنبھا لی ہے۔واضح رہے کہ واشنگٹن نے ایران میں ہوئے مظاہروں کے خلاف کریک ڈان پر تہران کے خلاف فوجی مداخلت کو تاحال مسترد نہیں کیا ہے۔ مغرب کے حقوقِ انسانی گروپوں کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت کی کریک ڈان میں ہزاروں لوگ مارے گئے۔ ان مظاہروں کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یو ایس ایس ابراہم لنکن کو خطے کی طرف روانہ کرنے کی ہدایت دی۔ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ایک کال میں امریکی “دھمکیوں” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد “خطے کی سلامتی کو درہم برہم کرنا ہے اور اس سے عدم استحکام کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہو گا”۔قابل ذکر ہے کہ امریکہ نے مشرق وسطی کے کئی ممالک میں فوجی اڈے بھی قائم کر رکھے ہیں۔ ایران پاسداران انقلاب کے کمانڈر نے منگل کو اسی حوالے سے ایران کے پڑوسیوں کو انتباہ جاری کیا۔فارس نیوز ایجنسی نے آئی آر جی سی کی بحری افواج کے سیاسی نائب محمد اکبر زادہ کے حوالے سے بتایا کہ “پڑوسی ممالک ہمارے دوست ہیں، لیکن اگر ان کی سرزمین، آسمان یا پانی ایران کے خلاف استعمال ہوتا ہے تو وہ دشمن تصور کیے جائیں گے‘‘۔سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ولی عہد نے پیزشکیان سے وعدہ کیا کہ ریاض “اپنی فضائی حدود یا اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا”۔اس ماہ کے اوائل میں ایران میں مظاہروں کے خلاف کریک ڈان اور انٹرنیٹ بلیک آٹ کے بعد ٹرمپ نے مداخلت کے بارے میں ملے جلے اشارے دیے تھے۔امریکی فوج کی طرف سے لاطینی امریکی ملک کے صدر نکولس مادورو کو پکڑے جانے کے چند ہفتوں بعد ٹرمپ نے پیر کو ایکسیوس نیوز کو بتایا کہ “ہمارے پاس ایران کے قریب ایک بڑا جنگی بیڑا ہے۔ وینزویلا سے بھی بڑا”۔ اسی کے ساتھ انہوں نے مزید کہا کہ “وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ میں جانتا ہوں۔ انہوں نے متعدد مواقع پر فون کیا۔ وہ بات کرنا چاہتے ہیں‘‘۔تہران نے پہلے بھی واضح کر چکا ہے کہ دونوں ممالک (ایران و امریکہ) کے درمیان سفارتی تعلقات کی کمی کے باوجود وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی ایلچی سٹیو وٹ کوف کے درمیان رابطے کا ایک چینل کھلا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے آپشنز امیں فوجی تنصیبات پر حملے یا سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت کے خلاف ٹارگٹڈ حملے شامل ہیں تاکہ اس نظام اقتدار کو گرایا جا سکے جو سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران پر حکومت کر رہا ہے۔