عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/مرکز کے زیر انتظام جموں وکشمیر اور لداخ میں یوم جمہوریہ کی تقریبات کے انعقاد کے لئے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے ہیں۔جموں وکشمیر بالخصوص وادی کشمیر کے میدانی علاقوں میں ملک دشمن عناصر کی سرگرمیوں پر روک لگانے کے لئے تلاشیوں اور گشت کا سلسلہ گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری ہے، جبکہ ایل او سی اور بین الاقوامی سرحد پر دراندازی کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لئے فوجی اہلکاروں کو الرٹ حالت میں رکھا گیا ہے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جموں وکشمیر کے دونوں دارالحکومتوں میں ہونے والی تقریبات کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
سرمائی دارالحکومت جموں جہاں مولانا آزاد سٹیڈیم میں یوم جمہوریہ کی مرکزی تقریب منعقد ہوگی، جس میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا پرچم کشائی کی رسم انجام دیں گے، کے اردگرد سخت سکیورٹی پہرہ بٹھایا گیا ہے۔اسی طرح گرمائی دارالحکومت سرینگر کے بخشی اسٹیڈیم جہاں نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمارم چودھری پرچم کشائی کی رسم انجام دیں گے، کو بھی سخت سکیورٹی کے حصار میں رکھا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ بخشی اسٹیڈیم سرینگر کو سیکورٹی فورسز نے پوری طرح سے سیل کیا ہے اور کسی کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہیں۔
دریں اثنا شہر میں ناخوشگوار واقعات کو ٹالنے کے لئے جگہ جگہ پر ناکے بٹھائے گئے ہیں، جہاں نہ صرف ہر آ نے جانے والی گاڑی بالخصوص دوپہیہ گاڑیوں کی تلاشی لی جاتی ہے، بلکہ ان میں سوار افراد کی جامہ تلاشی لینے کے علاوہ ان سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔پولیس کے ایک سینئر آفیسر نے یو این آئی کو بتایا کہ وادی میں یوم جمہوریہ کی تقریبات کے لئے تمام تر انتظامات کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریبات کے احسن انعقاد کے لئے سرینگر سمیت وادی کے تمام اضلاع میں سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔صوبہ جموں میں تعینات ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ تقریبات کے احسن انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے تمام درکار اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘سکیورٹی کو ہر سال 26 جنوری کے موقع پر ہائی الرٹ پر رکھا جاتا ہے۔
ایم اے اسٹیڈیم اور اس کے نزدیکی علاقوں میں تلاشیوں کا سلسلہ گزشتہ قریب ایک ہفتے سے جاری ہے۔مشتبہ نقل وحرکت پر نظر رکھنے کے لئے سکیورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے’۔ادھر سرینگر اور وادی کے دوسرے اضلاع میں راہگیروں کی جامہ تلاشیوں اور گاڑیوں کی چیکنگ کا عمل گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری ہے۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لئے بخشی اسٹیڈیم کے گردونواح میں ریاستی پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری کو تعینات کیا گیا ہے، جبکہ اسٹیدیم کے قریب واقع تمام اونچی عمارتوں پر ماہر نشانہ بازوں کو تعینات کیا گیا ہے۔اسٹیڈیم کے باب الداخلہ کو بھی خاردار تار سے بند رکھا گیا ہے اور صرف سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں کو اندر جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔
اسٹیڈیم کے گردونواح میں کئی ایک حساس مقامات پر مشتبہ افراد کی نقل وحرکت پر قریبی نگاہ رکھنے کے لئے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں اور بلٹ پروف گاڑیاں تعینات کردی گئی ہیں۔سکیورٹی فورس اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں نے یوم جمہوریہ کی تقریب سے قبل ملی ٹینٹوں کے کسی بھی حملے کو ناکام بنانے کے لئے اسٹیڈیم کے تین کلو میٹر کے دائرے میں آنے والے علاقوں میں شبانہ گشت بھی تیز کردی ہے۔یوم جمہوریہ کی تقریبات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے وادی کے اطراف واکناف بالخصوص مختلف اضلاع کو گرمائی دارالحکومت کے ساتھ جوڑنے والی سڑکوں پر سکیورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے خصوصی ناکے بٹھائے گئے ہیں، جہاں چھوٹی بڑی گاڑیوں کو روک کر ان کی تلاشی لی جاتی ہے اور ان میں سوار مسافروں کی جامہ تلاشی لینے کے علاوہ شناختی کارڈ چیک کئے جاتے ہیں۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق ان تمام اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ جشنِ جمہوریہ میں کسی بھی قسم کا خلل نہ آئے اور عوام بلا خوف و خطر تقریب میں شریک ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بار سکیورٹی پلان میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال نمایاں طور پر بڑھایا گیا ہے اور روایتی طریقہ کار کے ساتھ ہائی ٹیک پراسس کو جوڑ کر ایک مرکب حفاظتی نظام قائم کیا گیا ہے۔پولیس کے اعلیٰ افسران نے کہا ہے کہ یومِ جمہوریہ کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے تمام تیاریاں مکمل ہیں۔ ان کے مطابق سرینگر اور جموں کے ساتھ ساتھ وادی کے تمام اضلاع میں سکیورٹی پلان نافذ ہو چکا ہے جس کے تحت پولیس، سی آر پی ایف، فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مابین قریبی ہم آہنگی برقرار رکھی گئی ہے۔انتظامیہ کو امید ہے کہ سخت ترین حفاظتی انتظامات کے نتیجے میں یومِ جمہوریہ کی تقریبات نہایت پرامن ماحول میں منعقد ہوں گی اور عوام معمول کے مطابق شرکت کر سکیں گے۔
جموں وکشمیر میں یوم جمہوریہ کی تقریبات کیلئے سکیورٹی کے فقیدالمثال انتظامات