بجلی نظام ٹھپ،متعدد سڑکیں بند،عبور ومرور متاثرتیزہوائوںنے تباہی مچادی ،طویل خشک سالی کا بالآخر خاتمہ
محمد تسکین +عاصف بٹ+اشتیاق ملک +زاہد بشیر
جموں//خطہ چناب میں بھاری برف باری اور بارشیں ہوئیں جبکہ میدانی جموں میں موسلادھار بارشیں ہوئیں تاہم کٹھوعہ کے بالائی علاقوں میںبرف باری ہوئی جس سے بجلی کا نظام تقریباً ٹھپ ہوگیا جبکہ فضائی و زمینی ٹریفک متاثر ہوا ۔اس دوران تیز ہوائوں نے بھاری پیمانے پر عوامی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔
جموں
جموں شہر سمیت میدانی علاقوں میںدرمیانی درجے کی بارشیں ہوئیں، جس سے گزشتہ دو ماہ سے جاری خشک موسم کا خاتمہ ہو گیا۔محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق جمعرات کی شام تیز ہواؤں کے بعد زیادہ تر بالائی علاقوں میں برفباری شروع ہوئی، جبکہ پوری رات جموں شہر سمیت میدانی علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش ہوتی رہی۔رام بن، ڈوڈہ، کشتواڑ، پونچھ، راجوری، ریاسی، اودھم پور اور کٹھوعہ اضلاع کے بالائی علاقوں میں وقفے وقفے سے برفباری جاری رہی۔ بعض علاقوں میں چند انچ سے لے کر دو فٹ سے زائد برف جمع ہو گئی۔بالائی علاقوں میں آخری بار دسمبر کے آخری ہفتے میں برفباری ہوئی تھی۔ تازہ برفباری اور بارشوں سے عوام، خصوصاً کسانوں اور سیاحت سے وابستہ افراد کو راحت ملی اور خطے میں جاری خشک سالی ختم ہو گئی۔ خراب موسم کے باعث جموں ایئرپورٹ پر صبح پانچ پروازیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ کئی پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ دن بھر میں ایئرپورٹ سے 32پروازوں کی آمد و رفت طے تھی۔دریں اثنا، بارش کے باعث پانی جمع ہونے کی وجہ سے بی ایس ایف نے اپنے جموں ہیڈکوارٹر میں ہونے والی بھرتی مہم کو 24جنوری سے بڑھا کر 6فروری کر دیا ہے۔ بی ایس ایف کے ترجمان کے مطابق مسلسل شدید بارش کے سبب پالورا کیمپ میں پانی جمع ہو گیا تھا، جس کے پیش نظر 24جنوری کوہونے والا پی ایس ٹی/پی ای ٹی امتحان ملتوی کر کے اب 6 فروری کو منعقد کیا جائے گا۔
رام بن
ضلع رام بن میں موسم کی پہلی بڑی برفباری سے خشک سالی کا خاتمہ ہوا ۔ قصبہ رام بن میں بھی برفباری تاہم بارشوں نے جمع ہونے نہ دی ۔کبھی کبھار برف کا تجربہ کرنے والے قصبہ رامبن میں دو سے تین انچ جبکہ ضلع رام بن کے دیگر علاقوں میں تین انچ سے دو فٹ تک برفباری ریکارڈ کی گئی۔بانہال، کھڑی، مہو منگت، رامسو، نیل، پوگل پرستان، سینابتی، راج گڑھ، گول، بٹوت، پتنی ٹاپ اور سناسر سمیت کئی علاقوں میں شدید برفباری ہوئی ہے جبکہ بعض مقامات پر بارش کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ تازہ برفباری اور بارشوں سے دریائے چناب، نالہ بشلڑی اور قدرتی چشموں اور دیگر ندی نالوں میں پانی کی سطح بحال ہونے کی امید ہے۔ سب ڈویژنل انتظامیہ بانہال نے برفباری اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے چوبیس گھنٹے فعال کنٹرول روم قائم کر دیا ہے اور تمام ٹیموں کو متحرک کیا گیاہے ۔ سب ڈویژنل مجسٹریٹ بانہال محمد نصیب کی جانب سے جاری حکمنامے کے مطابق یہ کنٹرول روم تمام متعلقہ محکموں کے ساتھ تال میل رکھتے ہوئے کام کرے گا۔کنٹرول روم میں ریونیو، پولیس، ٹریفک، صحت، پی ڈبلیو ڈی، پی ایم جی ایس وائی، بجلی، جل شکتی، خوراک اور میونسپل کمیٹی کے افسران اور رضاکار انجمنوں کے رضاکار شامل ہیں۔
کشتواڑ
تفصیلات کے مطابق جمعرات کی دیررات طوفانی اندھی کے بعد جمعہ کی صبح بالائی علاقوں میںشروع ہوئی برفباری کاسلسلہ شام تک جاری رہاجبکہ میدانی علاقوں میں بھی دیررات سےہی برفباری کا سلسہ جاری تھا۔۔ ضلع کے دورافتادہ علاقہ سب ڈویژن مڑواہ واڑون، دچھن، چھاترو، مچیل ،پاڈر، بونجواہ، سنتھن و کیشوان میں بھاری برفباری کی اطلاع ملی ہے۔واڑون سے ملی تفصیلات کے مطابق علاقے میں قریب دوفٹ تک برفباری ہوئی جبکہ مڑواہ میں ا یک فٹ ،دچھن میں ایک فٹ، مچیل میں ایک فٹ، پاڈر کے دیگر علاقہ جات میں بھی ایک فٹ برفباری درج کی گئی۔ پاڈر کو جوڑنے والی سڑک رابطہ کوآمدورفت کیلئے بند کردیاگیا ہے۔سب ڈویژن چھاترو سے ملی اطلاعات کے مطابق علاقہ میں بھی ایک سے دو فٹ تک برفباری ہوئی۔ جہاں وٹسر، ڈانگر نالہ، سنگھپورہ، کوچھال، کواٹھ، دیچھر میں قریب دو فٹ برفباری ہوئی وہیں چنگام، چھاترو، مغلمیدان، سگدی بھاٹہ میں قریب ا یک فٹ تک برفباری درج کی گئی۔ کشمیر عظمیٰ کو لوگوں نے فون پر بتایا کہ سبھی اندرونی سڑک رابطوں پر ابھی تک بر ف ہٹانے کا عمل شروع نہیں کیا گیا ہے ۔ادھربونجواہ، درابشالہ، سروڈ، کنتواڑہ و سرتھل کے علاقوں میں بھی ا یک فٹ تک برفباری کی اطلاع ملی ہے ۔ برفباری کے سبب ضلع کے اندرونی و بیرونی سڑک رابطے مکمل طور آمدورفت کیلئے بند ہیں جنھیں ہنوز بحال نہ کیا جاسکا ۔ میدانی علاقوں میں بھی تازہ برفباری ہوئی۔میدانی علاقوں میں چھ سے آٹھ انچ تک تازہ برفباری درج کی گئی۔برفباری سے لطف اندوز ہونے کیلئے لوگوں کی بھاری بھیڑ چوگان میں دیکھی گئی ۔اس دوران انتظامیہ کی جانب سے برف ہٹانے کا عمل دن بھر قصبہ کی سڑکوں پر جاری رہا تاہم مسلسل ہورہی برفباری کےسبب متعدد مقامات پر لوگوں کو مشکلات بھی پیش آئیں۔دریں اثناءدیر رات سے ہی ضلع بھر بجلی غائب ہے اور پورا ضلع گھپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے۔ اگرچہ حکام نے ضلع میں بجلی سپلائی کو بحال کیا تھا تاہم بعد دوپہر 132کے وی لائن میں فالٹ ہوا ۔مسلسل برفباری کے سبب ٹیموں کو فالٹ ٹریس کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں جس کی وجہ سےبجلی کی بحالی نامکمن ہوگئی تاہم دیرشام قصبہ کے کچھ علاقوں میں بجلی سپلائی بحال کی گئی جبکہ دیگر علاقہ جات میں سپلائی بحال نہ ہوسکی۔
ڈوڈہ
ڈوڈہ ضلع میں گذشتہ شب سے ہی برفباری و بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق جمعہ کی شب ڈوڈہ ،بھدرواہ ،ٹھاٹھری ،گندوہ بھلیسہ ،عسر، مرمت کے بالائی علاقوں میں برفباری و بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے جو جمعہ کو دن بھر وقفے وقفے سے جاری رہا۔تازہ برفباری و بارشوں سے طویل خوشک سالی کا خاتمہ ہوا ہے تاہم بیشتر علاقوں میں سڑک، پانی و بجلی نظام متاثر ہوا ہے۔کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے ڈی ڈی سی کونسلر بھلیسہ چوہدری محمد اقبال کوہلی نے کہا کہ بالائی علاقوں میں دو فٹ اور میدانی علاقوں 6انچ کے قریب برف جمع ہوئی ہے۔انہوں نے کہا رابطہ سڑکوں پر بھاری پھسلن پیدا ہوئی ہے اور بھدرواہ چمبہ و بھدرواہ بسوہلی شاہراہیں بند ہوئیں ہیں جبکہ پانی و بجلی نظام بھی متاثر ہوا ہے۔ایس ڈی ایم گندوہ ارون کمار بڈیال نے کہاکہ برفباری و بارشوں سے بنیادی نظام متاثر ہوا ہے تاہم سبھی محکموں و مشینری کو متحرک رکھا گیا ہے۔
گول
سب ڈویڑن گول اور اس کے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ شب سے جاری بھاری برف باری کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو گئے ہیں۔دوران شب شدید طوفانی ہواؤں کی وجہ سے کئی دکانوں کی چھتیں گول بازار میں اکھڑ گئی اور دکانداروں کا کافی نقصان ہوا۔ وہیں نصف شب کے بعد شدید برف کی موٹی تہہ جم جانے سے گول اور اندرونی رابطہ سڑکوں پر آمد منقطع ہوچکی ہے جبکہ بجلی بھی کل شام سے ہی گل ہوچکی ہے۔ شدید طوفانی ہواؤں کے باعث بجلی کی ترسیلی لائنوں کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ برف باری کے باعث رابطہ سڑکیں منقطع ہوچکی ہیں اور جلد ان کو کھولا جائے گا، انتظامیہ کے مطابق محکمہ پی ڈبلیو ڈی، بجلی اور دیگر متعلقہ محکموں کو الرٹ موڈ پر رکھا گیا ہے اور سڑکوں سے برف ہٹانے اور ضروری خدمات کی بحالی کا کام جاری ہے۔ادھر مقامی لوگوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ برف باری کے دوران سڑک رابطہ۔بجلی سپلائی اورطبی سہولیات فوری بحالی کو یقینی بنایا جائے۔لوگوں کے مطابق برف باری کی وجہ سے پھلدار درختوں کوبھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ گول بازار میں تین فٹ کے قریب برف جمع ہوئی ہے اور اس سے اوپری علاقوں میں اس سے زیادہ برف جمع ہے۔